حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 128 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 128

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 128 اساتذہ کا ادب و احترام کامیابی کی پہلی سیڑھی: اردو میں کہاوت ہے کہ "با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب یعنی جو شخص دوسروں کی عزت کرتا اور احترام قائم کرتا ہے اس کے نصیب میں بھلائی اور خیر بھر دی جاتی ہے اور دوسروں کا ادب اور احترام نہیں کرتا وہ لازماً ذلت ورسوائی کا منہ دیکھتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اساتذہ کی عزت قائم فرمائی ہے کیونکہ اساتذہ گھر سے باہر بچے کی تربیت کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور اس کو علم و عمل کے مختلف طریق اور ڈھنگ سکھاتے ہیں۔چنانچہ اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد درج ذیل ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَتَعَلَّمُوْا لِلْعِلْمِ السَّكِيْنَةَ وَالْوَقَارَ وَتَوَاضِعُوْا لِمَنْ تَعَلَّمُوْنَ مِنْهُ۔(المعجم الأوسط للطبراني، محمد بن حنيفة الواسطي، جزء6 صفحه 200) | ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پر لازم ہے کہ علم سیکھو اور بردباری اور وقار بھی سیکھو اور جس سے تم علم سیکھتے ہو اس کے لیے تواضع اور عجز اختیار کرو۔طلبا کو اساتذہ کی طرف سے نصائح: حضرت ابو عبد الرحمن عبد اللہ حبیب سلمی کے شاگردوں میں سے جب کوئی قرآن کریم کا دور مکمل کر لیتا تو وہ اس کو اپنے سامنے بٹھاتے اور اس کے سر پر دست شفقت رکھ کر یوں نصیحت فرماتے: ”میرے پیارے! اللہ سے ڈرتے رہنا، تقویٰ اختیار کرنا، جو تم نے سیکھا اگر اس پر عمل کرتے رہے تو میرے نظریہ اور اعتقاد کے مطابق تمہارے سے بہتر کوئی شخص نہیں ہے۔“ علامہ سیوطی نے التحبير في علوم التفسیر میں طلبا کو یوں نصیحت کی : ہر حافظ قرآن کو چاہیے کہ اپنی نیت خالص رکھے، اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو، تعلیم و تعلم سے دنیا ( مال اور ریاست وغیرہ) مقصود نہ ہو، آداب قرآن کے مطابق اپنے