حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 68
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 68 الصَّدَقَةُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّوْمِ وَ الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ (شعب الإيمان التاسع عشر باب في تعظيم القرآن، فصل في استحباب القراءة في الصلاة) ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں قرآن کریم کی تلاوت بغیر نماز کی تلاوت سے افضل ہے اور نماز کے علاوہ قرآن کریم پڑھنا تسبیح و تکبیر کرنے سے افضل ہے اور تسبیح صدقہ سے افضل ہے اور صدقہ روزہ سے افضل ہے اور روزہ آگ سے بچانے والی ڈھال ہے۔نماز میں قرآن کریم کی تلاوت اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم : آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نفل نمازوں میں لمبا قیام فرماتے اور قرآن کریم کی تلاوت زیادہ فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک روایت ملتی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز تہجد میں قرآن کریم کی بالترتیب تلاوت فرمائی جو مجموعی طور پر قرآن کریم کے پانچویں حصے کے برابر ہے۔(سنن ابی داؤد، کتاب الصلواة ، باب ما يقول الرجل في ركوعه) اسی طرح بخاری میں ذکر ملتا ہے کہ نماز میں لمبے قیام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک متورم ہو جایا کرتے تھے۔(بخاری ـ كتاب الصلواة ـ باب قيام النبى الله ان ترم قدماه حفاظ کا باقاعدگی سے قرآن پڑھنا اور دُہرانا ضروری ہے: کوئی بھی سبق یادر کھنے کے لیے اس کی بار بار دہرائی اور اس کا امتحان ضروری ہوتا ہے تا کہ وہ سبق ذہن سے اتر نہ جائے، اچھی اور پکی طرح یاد ہو جائے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حفاظ کو یہ نصیحت فرمائی کہ وہ روزانہ بلا ناغہ قرآن کریم کی دہرائی کرتے رہیں تا کہ یاد کیا ہوا قرآن کریم انہیں بھول نہ جائے۔اس بارے میں روایت ہے: عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ إِنَّمَا مَثَلُ