حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 67
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 67 حقوق قرآن کی جامع حدیث: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کو صرف اپنے گھروں اور الماریوں کی زینت بنا کر رکھنے سے منع فرمایا اور اس کی تلاوت اور اس عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔چنانچہ حضرت عبیدہ ملیکی سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَا أَهْلَ الْقُرْآن لَا تُوَسِدُوْا الْقُرْآنَ وَاتْلُوْهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَ افْشُوْهُ وَتَغَنَّوْهُ وَ تُدَبِّرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ وَلَا تَعْجِلُوْا تِلَاوَتَهُ فَإِنَّ لَهُ ثَوَابًا (شعب الإيمان التاسع عشر باب في تعظيم القرآن، فصل في إدمان تلاوة القرآن ، جزء 2،صفحه 350) ترجمہ: اے قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو! قرآن کریم کو اپنا تکیہ بنا کر نہ رکھو، بلکہ دن اور رات کی مختلف گھڑیوں میں اس طرح اس کی تلاوت کیا کرو، جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے۔اور اس کو پھیلاؤ ، اور اس کو سنوار کر پڑھا کرو، اور جو کچھ اس میں ہے اس پر تدبر کیا کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ اور اس تلاوت کا اجر جلدی نہ مانگو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا عظیم ثواب اور معاوضہ مقدر ہے۔نماز میں قرآن کریم کی تلاوت افضل اور یا درکھنے کا بہترین ذریعہ ہے: آنحضرت ﷺ نے قرآن کریم کی دہرائی اور اس کو یا درکھنے کا بہترین طریق بیان فرمایا ہے کہ اس کی کثرت کے ساتھ تلاوت کی جائے اور نماز میں اس کی زیادہ سے زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جائے تا کہ اس طریق پر ثواب کے حصول کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کا جو حصہ زبانی یاد کیا ہوا ہو، وہ یاد بھی رہے: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ وَ قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنَ التَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحِ وَ التَّسْبِيْحُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ وَ