حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 16 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 16

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 16 حفظ بھی پکا ہو جائے۔چنانچہ قرآن کریم کے سب سے پہلے حافظ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور بلاشبہ سب سے پہلے اور سب سے بڑے معلم قرآن اور حامل قرآن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہم نے بھی قرآن کریم حفظ کیا۔دیگر صحابہ اور صحابیات میں سے بہت سے قرآن کریم کے حافظ اور قاری تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم پڑھانے والے استادوں کی ایک جماعت مقررفرمائی تھی جو سارا قرآن کریم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حفظ کر کے آگے لوگوں کو سکھاتے تھے۔ان میں مندرجہ ذیل چار چوٹی کے استاد تھے جن کا کام یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سیکھ کر لوگوں کو قرآن پڑھائیں۔پھران کے ماتحت اور بہت سے صحابہ ایسے تھے جو لوگوں کو قرآن شریف پڑھاتے تھے۔ان چار اساتذہ (صحابہ) کے نام یہ ہیں۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان چار کے سوا مسلمانوں میں اور بھی بعض بڑے بڑے استاذ القرآء تھے۔مثلاً : حضرت زید بن ثابت جن کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری زمانہ میں وحی لکھوایا کرتے تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ایسے صحابہ عطا کیسے تھے جو ہر ثواب کے لیے جان توڑ کوشش کیا کرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک پر کثرت سے صحابہ نے قرآن حفظ کرنا شروع کر دیا تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی حفاظ کی تعداد اتنی بڑھ چکی تھی کہ وہ ہزاروں کی تعداد تک پہنچ چکے تھے جیسا کہ واقعہ بئر معونہ سے پتہ چلتا ہے کہ سن 4 ہجری میں نجد قبیلہ کی درخواست پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر (70) صحابہ کو دین اسلام سکھانے کے