حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 15
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 15 کہ یقیناوہ شخص ایک ویران گھر کی مانند ہے جس کے سینے میں قرآن کریم کا کوئی حصہ محفوظ نہیں۔چنا نچہ ابتدا سے صحابہ کرام ، تابعین اور پھر تبع تابعین اور عام مسلمان کثرت سے قرآن کریم حفظ کرتے رہے یہاں تک کہ بعض خاندانوں میں یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہا۔ہر مسلم مرد و زن کو چونکہ روزانہ پانچ وقت نمازوں میں تلاوت کرنے کے لیے سورہ فاتحہ کے علاوہ بھی قرآن کریم کے کچھ حصے زبانی یاد کرنے ضروری ہیں اس لیے حفظ قرآن کریم کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے۔خصوصاً نماز تہجد کیلئے عام نمازوں کی نسبت زیادہ مقدار میں قرآن حفظ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ: قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيْلاً ه نِصْفَهُ أَوِ انْقُصُ مِنْهُ قَلِيلاً o أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلاً (المزمل : آیت 3 تا 5 ) ترجمہ: رات کو قیام کیا کر مگر تھوڑا۔اس کا نصف یا اس میں سے کچھ تھوڑا سا کم کر دے۔یا اس پر ( کچھ زیادہ کر دے اور قرآن کو خوب نکھار کر پڑھا کر۔(ترجمه از حضرت خلیفة المسیح الرابع ) پس جو شخص نصف رات یا رات کا تیسرا پہر نماز تہجد پڑھے گا اُسے تلاوت کے لیے قرآن مجید میں سے ایک بڑا حصہ حفظ ہونا چاہیے۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات نماز تہجد میں سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران جیسی دو تین سورتیں تلاوت کیا کرتے تھے۔پس اپنی عبادت کو معیاری بنانے اور سنوار کر ادا کرنے کے لیے ہر مؤمن کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن کریم کا ایک بڑا حصہ زبانی یاد کرے۔چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس طرف بار بار توجہ دلائی اور حفظ قرآن کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق کار یہ تھا کہ نزول قرآن کے ساتھ ساتھ حفظ کرتے جاتے اور پھر اس کو دہراتے رہتے۔نیز اپنے صحابہ کو بھی یاد کرواتے اور پھر ان سے سنا بھی کرتے تھے تا کہ ان کا