حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 17 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 17

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 17 لیے بھیجا جو سب کے سب قرآن کریم کے حافظ تھے۔یہ 70 صحابہ کوئی معمولی آدمی نہیں تھے بلکہ نہایت مقدس لوگ قرآن کریم کے قراء اور ماہر تھے جن کو دھوکہ دہی سے راستے میں ہی بئر معونہ کے مقام پر شہید کر دیا گیا۔حفظ قرآن کی برکت اور حفاظ کے مقام کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معابعد جب مسیلمہ کذاب نے بغاوت کر کے ایک لاکھ سپاہیوں کے ساتھ مدینہ پر حملہ کر دیا اور ان کے مقابلے کے لیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو تیرہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ بھیجا تو اس وقت بعض نئے مسلمانوں کو ضمنی طور پر شکست ہونے لگی یعنی یہ تو نہیں تھا کہ لشکر اسلامی بھاگ گیا ہولیکن اس کو کئی مقام چھوڑنے پڑے تھے، اس پر صحابہ میں سے جو لوگ قرآن کریم کے حافظ تھے انہوں نے کہا کہ آپ اس سارے لشکر سے مسیلمہ کا مقابلہ نہ کریں صرف ہم لوگ جو قرآن کریم کے جاننے والے ہیں ہمیں ایک الگ لشکر کی صورت میں ترتیب دے کر اس کے مقابلے کے لیے آگے کریں کیونکہ ہم اسلام کی قیمت جانتے ہیں اور اس کے بچانے کے لیے اپنی جانیں دینے کی قدر ہمیں معلوم ہے۔ان کی اس بات کو حضرت خالد بن ولید نے مان لیا اور قرآن شریف کے حفاظ صحابہ کو الگ کر دیا اور وہ تین ہزار کی تعداد میں نکلے۔ان تین ہزار آدمیوں نے اس شدت سے مسیلمہ کے لشکر پر حملہ کیا کہ اس کا لشکر تباہ ہو گیا۔اس وقت ان صحابہ نے شعار جنگ کے الفاظ یہ مقرر کیے تھے کہ : ”اے سورۃ بقرہ کے حافظو! یہ شعارانہوں نے اس لیے مقرر کیے کہ سورہ بقرہ قرآن کریم کی سورتوں میں سب سے لمبی ہے۔اس لڑائی میں پانچ سو قاری صحابی شہید ہوئے۔ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بکثرت قرآن کریم حفظ کیا جا تا تھا اور ہزاروں آدمی قرآن شریف کو شروع سے لے کر آخر تک یادرکھتے تھے۔“ 66 (دیباچه تفسیر القرآن صفحه 271 تا 274)