حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 205
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 205 ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگرانی مدینہ منورہ کے مرکزی نظام کے تحت براہ راست سارے مسلم عرب کی تعلیم القرآن کی ضروریات پوری کی جار ہیں تھیں۔صحاح ستہ نیز حدیث اور تاریخ کی دیگر کتب میں تعلیم القرآن اور تفسیر القرآن کے حوالے سے با قاعدہ الگ ابواب ہیں جن میں تعلیم القرآن کے موضوع پر آنحضور ﷺ کی بابرکت مساعی کا ذکر ، قرآن کریم سے محبت ، اس کی تعلیم حاصل کرنے کا شوق اور رغبت پیدا کرنے کے لیے آپ کی نصائح درج ہیں۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار صحابہ کے اُسوہ پر چلتے ہوئے اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر اب تک امت محمدیہ کا نمونہ تو دنیا کے سامنے ہے ہی کہ کس طرح بچے کو چھوٹی عمر سے قرآن کریم کی تعلیم دی جاتی ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جاری کردہ سنت کے عین مطابق آج تک تواتر کے ساتھ تعلیم القرآن اور حفظ کا سلسلہ جاری ہے۔تعلیم القرآن اور حفظ قرآن کے مدر سے شہر شہر اور گاؤں گاؤں میں قائم ہیں۔دیہات ، قصبات اور شہروں میں چھوٹے چھوٹے مدرسوں کے علاوہ سکولوں کالجوں اور بڑی اسلامی اور غیر اسلامی یونیورسٹیوں اور جامعات میں بھی قرآن کریم کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔قرآن کریم کے حفاظ پر فرض ہے کہ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے اسوہ پر چلتے ہوئے قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کا فریضہ سرانجام دیں۔ہر حافظ قرآن استاد ہے اور اس کو تعلیم قرآن کی ذمہ داری لیے ہمیشہ کوشاں رہنا چاہیے۔تران ات کہیں گے ماں جان پائیں گے (کشتی نوح)