حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 206
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 206 قرآن کریم کا دور مکمل کرنے پر دعائیں قرآن کریم کا دور مکمل کرنے پر خاص طور پر دعائیں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس نور اور ہدایت کے چشمہ سے انسان نے جو کچھ حاصل کیا ہے، جو کچھ پڑھا اور سیکھا ہے اُسے بھول نہ جائے ، اُسے یادر ہے اور ہمیشہ اس کے لیے مشعل راہ رہے اور وہ اس پر عمل کرنے کی توفیق پاسکے تاکہ خدا کے فضلوں کو حاصل کرے اور فیض پاوے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کا دور مکمل کر لینے کے بعد انفرادی طور پر بھی دعا کی جاتی ہے اور اجتماعی طور پر بھی۔قرآن شریف کا اوّل و آخر دعاؤں پر مشتمل ہے۔شروع میں بھی دعاؤں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اختتام پر بھی۔پس قرآن کریم سے فیض حاصل کرنے کے لئے دعاؤں کی بہت ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یا درکھو کہ یہ جو خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کی ابتدا دعا سے ہی کی ہے اور پھر اس کو ختم بھی دعا سے ہی کیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان ایسا کمزور ہے کہ خدا کے فضل کے بغیر پاک ہو ہی نہیں سکتا اور جب تک خدا تعالیٰ سے مدد اور نصرت نہ ملے یہ نیکی میں ترقی کر ہی نہیں سکتا۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ سب مردے ہیں مگر جس کو خدا زندہ کرے اور سب گمراہ ہیں مگر جس کو خدا ہدایت دے اور سب اندھے ہیں مگر جس کو خدا بینا کرے۔غرض یہ سچی بات ہے کہ جب تک خدا کا فیض حاصل نہیں ہوتا تب تک دنیا کی محبت کا طوق گلے کا ہار رہتا ہے اور وہی اس سے خلاصی پاتے ہیں جن پر خدا اپنا فضل کرتا ہے۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ خدا کا فیض بھی دعا ہی سے شروع ہوتا ہے۔۔۔۔دعا میں ایک مقناطیسی اثر ہوتا ہے وہ فیض اور فضل کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔“ (ملفوظات، جلد پنجم، صفحه 399 400 |