حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 204
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 204 ترجمہ: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ صاحب عزت و جلال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس شخص کو قرآن کریم نے اور میرے ذکر نے مصروف رکھا اور اس نے سوال نہ کیا تو میں اسے ان لوگوں سے زیادہ عطا کروں گا جن کو سوال کرنے پر میں دیتا ہوں۔قرآن کریم کے درس و تدریس میں مشغول رہنے والوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ ولہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف لائے تو دیکھا کہ بعض صحابہ عبادات اور دعاؤں میں مصروف ہیں اور بعض قرآن کریم کی تعلیم و تدریس میں مشغول ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تو معلم بنا کے بھیجا گیا ہے اور پھر آپ قرآن کریم کی تعلیم میں مشغول گروہ میں رونق افروز ہو گئے۔(مقدمه سنن ابن ماجه، باب فضل العلماء والحث على طلب العلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو قرآن کریم کی تعلیم دینے کے لیے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان چار صحابہ رضوان اللہ علیہم سے قرآن کریم سیکھو۔چنانچہ روایات میں ذکر ملتا ہے: خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ وَمُعَاذٍ وَأُبَيٍّ بُنِ كَعْبٍ۔(بخاری، کتاب فضائل القرآن باب القراء من اصحاب النبي علي فرمایا کہ ان چار صحابہ سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کیا کرو: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختلف قبائل میں دس دس پندرہ پندرہ قراصحابہ کے وفود تعلیم القرآن کے لیے بھیجا کرتے تھے۔مہاجرین اور انصار دونوں میں حفاظ کی کثیر تعداد موجود تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرتے اور پھر وفود کی صورت میں عرب کے مختلف علاقوں میں جا کر کچھ دن قیام کرتے اور مسلمانوں کو قرآن کریم کی تعلیم دیتے تھے۔اس سے یہ ثابت