حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 203
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 203 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وَاللَّهِ لَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلَّم بِضْعًا وَسَبْعِينَ صلى الله سُورَةً۔(بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب القراء من اصحاب النبي ترجمہ: خدا کی قسم میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے ستر (70) سے زائد سورتیں سیکھیں۔جہاں آنحضرت ﷺ نے حفاظ کو خوش خبریاں عطا فرمائی ہیں وہاں قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے والوں اور آگے سکھانے والوں کے لیے بھی خوش خبری دی ہے کہ ان کو آنحضرت ﷺ اپنی راہنمائی میں خود جنت میں لے کر جائیں گے۔چنانچہ حضرت انس مسرور کونین ﷺ کا یہ ارشاد مبارک نقل کرتے ہیں: أَلَا مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ وَعَمِلَ بِمَا فِيْهِ فَأَنَا لَهُ سَائِقٌ إِلَى الْجَنَّةِ وَدَلِيْلٌ إِلَى الْجَنَّةِ۔(کنز العمال جلد 1 - صفحه 531 كتاب الاذكار من قسم الاقوال، باب السابع في تلاوة القرآن وفضائله الفصل الاول في فضائل تلاوة القرآن | ترجمہ: ایسے شخص کے لیے خوش خبری ہو کہ جس نے خود قرآن کریم سیکھا اور پھر دوسروں کو سکھایا اور جو کچھ قرآن کریم میں ہے اس پر عمل کیا۔میں اس کو خود جنت میں لے کر جاؤں گا اور جنت کی طرف لے جانے والا راہبر بنوں گا۔قرآن کریم کی عظمت اور برکت کے پیش نظر خدا تعالیٰ نے قرآن کی خدمت کرنے والوں، اسے سیکھنے والوں اور سکھانے والوں کو خوشخبری دی کہ چونکہ ان کا سارا وقت خدمت قرآن میں گزر جاتا ہے۔اس لیے میں انہیں ان لوگوں سے بھی زیادہ عطا کروں گا جو دعا گو ہیں اور سوال کر کے مجھ سے مانگتے ہیں۔چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ایک حدیث قدسی بیان کرتے ہیں: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ وَذِكْرِي عَنْ مَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِيَ السَّائِلِينَ۔(سنن الترمذى - كتاب فضائل القرآن )