حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 202
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 202 اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خواہش کی تکمیل اور حفاظت قرآن کے باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے علم کے ہر ایک میدان میں آگے آئے۔سب سے پہلے قرآن کریم کی اندرونی گواہی موجود ہے کہ حضرت رسول کریم۔سے پہلے معلم قرآن ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ (الجمعة: 3) ترجمہ: وہی (خدا) ہے جس نے اُمی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو اُن پر اس ( کلام کی ) آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور اس کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور اس کی حکمت سکھاتا ہے۔چنانچہ کثرت سے ایسی روایات ملتی ہیں جن سے علم ہوتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کس ذمہ داری ،شوق اور تڑپ کے ساتھ صحابہ کوقرآن کریم کی تعلیمات اور حکمتوں پر آگاہ کرتے اور تعلیم و تدریس کا فریضہ سرانجام دیا کیا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم قرآن کے سلسلہ میں چند روایات درج ذیل ہیں: عن عثمان رضی الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: خَيْرُ كُم مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَ عَلَّمَهُ (بخاری کتاب فضائل القرآن باب خيركم من تعلم القرآن و علمه ترجمہ : حضرت عثمان روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو خود قرآن سیکھتا ہے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ رض (مسند احمد بن حنبل، جلد2، مسند عبد الله بن عمر ، صفحه 157) یعنی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرآن کریم سکھایا کرتے تھے۔