حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 201 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 201

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات باب نہم تعلیم القرآن ،حفاظ کا اہم فریضہ 201 تعلیم القرآن قرآن کریم کی درس و تدریس، تعلیم، ترجمہ اور تفسیر کا لکھنا اور پڑھنا ، سنا اور سنایا جانا لامحالہ اس کتاب کی محبت کو امتیوں کے دلوں میں زندہ رکھنے کا باعث ہے۔امت محمدیہ کے کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھنے والے قرآن کریم کا احترام اپنی جان، مال اور اہل وعیال سے بھی بڑھ کر کرتے ہیں۔یہ جذبہ بھی حفاظت قرآن کریم کے حوالہ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔پس جس کتاب کے لفظ تو محفوظ ہوں لیکن معانی کی حفاظت کا انتظام نہ ہو وہ بھی مکمل طور پر محفوظ کتاب نہیں کہلا سکتی لیکن جس کتاب کی تعلیم ہر دور میں کسی قوم کے چھوٹے بڑے افراد میں عام ہو ممکن ہی نہیں کہ وہ کتاب کسی بھی زمانہ میں ضائع ہو جائے۔یہ امر بہت واضح ہے کہ جو تعلیم دلوں میں راسخ ہو جائے اور روز مرہ زندگی کا حصہ بن جائے اُسے نہ تو تبدیل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے مٹایا جا سکتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جہاں قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ لیا وہاں اس کی تعلیم اور اس کے معانی کی تفہیم کا ذمہ بھی اپنے سر ہی لیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کی اُمت کو یہ باور کروا دیا کہ قرآن کریم ایک کتاب ہی نہیں بلکہ یہ ایک نصاب اور دستور العمل اور لائحہ عمل ہے اور اس کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالنے کی کوشش کرو۔پس یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی جان سے بڑھ کر اس کتاب سے محبت کی ہے۔مکرم مولا نانسیم سیفی صاحب قرآن کریم کی محبت میں سرشار ہو کر ایک جگہ لکھتے ہیں: ترے عشق سے ملے ہیں مجھے جذب و مستی دل ترا لفظ لفظ شاید مرا جام جام ٹھہرا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کا علم حاصل کرنے کی بہت تاکید فرمائی ہے اور نہ صرف علم حاصل کرنے کی تلقین فرماتے بلکہ صحابہ کو قرآن کریم سکھانے اور اس کی تعلیم کی اشاعت کی طرف بہت توجہ دلائی ہے۔سب سے پہلے معلم قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہیں اور معلمین قرآن کے لیے اسوہ حسنہ بھی۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا جذبہ اطاعت بھی قابل دید ہے کہ وہ کس شوق اور ولولہ سے