حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 155 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 155

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 155 کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار سے باہر تھا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انـــا نحن نزلنا الذكر وانا له لحفظون کہ ایسے لوگ ہم پیدا کرتے رہیں گے جو اسے حفظ کریں گے۔آج اس اعلان پر تیرہ سوسال ہو چکے ہیں اور قرآن مجید کے کروڑوں حافظ گزرچکے ہیں اور آج بھی بے شمار حافظ ملتے ہیں جنہیں اچھی طرح سے قرآن کریم یاد ہے۔(تفسیر کبیر، جلد چهارم، صفحه 17، 18، زیر تفسير سورة الحجرآيت (10) آغاز وحی سے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگرانی قرآن کریم تحریری طور پر محفوظ کیا جانے لگا۔یوں ابتدا سے ہی اس کا ایک مخصوص متن تھا جو ایک تو اتر کے ساتھ ہم تک پہنچا۔ہر دور میں اس امر کی عقلی نقلی اور اجتماعی گواہی موجود رہی ہے کہ جو متن قرآن کریم کا آج ہمارے پاس موجود ہے وہ بعینہ وہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔پس جو وحی نازل ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسی وقت لکھوا لیتے تھے۔پھر ہر طرح تسلی کرنے کے بعد چنیدہ صحابہ کو حفظ کروا دیتے جو حفظ کے سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے دیگر صحابہ کو حفظ کراتے۔علاوہ ازیں جب حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لکھوا کر صحابہ کو حفظ کرا دیتے تو پھر مختلف صحابہ اُس نئی وحی کی نقول اپنے لئے بھی تیار کر لیتے۔یہ حفظ اور تحریرات گا ہے گا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر کے مستند بنالی جاتیں۔اس درجہ احتیاط اور اخلاص کے ساتھ بہت کثرت سے ہر تازہ وحی کو حفظ اور تحریری صورت میں محفوظ کیا جاتا کہ اس میں کسی قسم کی تحریف کا راہ پا جانا ممکن نہیں رہتا تھا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقتاً فوقتاً صحابہ کے پاس محفوظ قرآن کو چیک کرتے رہتے۔اس کے ساتھ ساتھ تعلیم القرآن کا باقاعدہ ایک انتظام کے ساتھ سلسلہ جاری تھا جس کے نگران اعلیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تھے۔اس میں شبہ نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے ایسے عشاق جانثار صحابہ عطا کیے تھے جو رضائے الہی کو رضائے رسول سے وابستہ سمجھتے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو دُنیا جہان