حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 132 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 132

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 132 صبح کے وقت پڑھنا اس لئے بھی بابرکت ہوتا ہے کہ ایک سچا قاری سارا دن قرآن کی ہدایات کے مطابق گزارتا ہے اور اس کو گزارنا بھی چاہئے۔گویا دست با کار دل با باز“ کا سامان ہوتا ہے۔اگر اس نیت سے تلاوت کی جائے تو معاشرہ جنت نظیر بن جائے۔ہر شخص حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کر کے اس دنیا کو خوبصورت بنا دے۔حافظ روزانہ رات سونے سے پہلے قرآن کا کچھ حصہ التزاماً پڑھے : حفظ قرآن کو قائم رکھنے کے لیے ہر حافظ کو چاہیے کہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے قرآن کریم کا کچھ حصہ التزاماً پڑھے۔یہ وقت بھی یاد کرنے کا بہترین وقت ہے۔جب سبق کچھ یاد ہو جائے تو سو جائیں۔باتوں یا دوسرے کاموں میں مشغول نہ ہوں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنَ الْبَقَرَةِ عِنْدَ مَنَامِهِ لَمْ يَنْسَ الْقُرْآنَ أَرْبَعُ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِهَا وَآيَةُ الْكُرْسِيِّ وَآيَتَانِ بَعْدَهَا وَثَلاثٌ مِنْ آخِرِهَا قَالَ إِسْحَاقُ لَمْ يَنْسَ مَا قَدْ حَفِظَ۔(سنن الدارمی، کتاب فضائل القرآن، باب فضل أول سورة البقرة وآية الكرسى) ترجمہ: جو شخص رات سونے سے پہلے سورۃ البقرۃ کی دس آیات تلاوت کرے گا اُسے قرآن کریم کبھی نہ بھولے گا۔چار آیات شروع والی المفلحون تک، ایک آیة الکرسی، دو اس کے بعد والی ، اور ( سورۃ البقرۃ کی ) تین آخری آیات ( آخری رکوع )۔عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ وَيَقُولُ إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ۔ترجمہ: حضرت عرباض بن ساریہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے قبل سور المسجات“ یعنی سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ حدید ، سورۃ حشر، سورۃ صف، سورۃ جمعہ سورۃ تغابن اور سورۃ اعلیٰ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیات سے بڑھ کر ہے۔(ابو داود، كتاب الأدب، باب ما يقال عند النوم)