حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 133
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 133 عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقُرَأَ (الم تَنْزِيلُ) وَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ) (ترمذی، کتاب فضائل القرآن باب فضل سورة الملك) ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم ہے سورۃ سجدہ اور سورۃ ملک کی تلاوت کرنے سے پہلے نہ سوتے تھے۔حفظ کرانے کا طریق ( تعلیمی ملحوظات ): حفظ شروع کرنے سے قبل ضروری ہے کہ مبتدی کو ناظرہ عربی تلفظ کے ساتھ آتا ہو اور اس نے ناظرہ قرآن کے کم از کم تین دور مکمل کیے ہوں اور روانی کے ساتھ صحیح تلفظ سے ناظرہ پڑھ سکتا ہو۔اگر ناظرہ ٹھیک نہ ہو تو حفظ کے دوران اس خامی کو دور کرنا طالب علم کو دُہری مشقت میں مبتلا کر دے گا۔اگر ناظرہ میں یہ کمی دور ہوگی تو بہت جلد حفظ ہو جائے گا، اس طرح نہ صرف حافظ ہو جائے گا بلکہ نصف قاری بھی ہو جائے گا۔اگر حفظ کرنے سے پہلے عربی تلفظ اور قرآت کی باقاعدہ مشقیں کروا کر ناظرہ پڑھا دیا جائے تو دورانِ حفظ قرآت میں بھی پختگی آئے گی ، اور ساتھ ساتھ حفظ میں بھی آسانی پیدا ہوتی جائے گی۔ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اس طرح حفظ کرنے کی مدت میں بھی ایک تہائی وقت کی کمی ہو جائے گی۔کوشش کی جائے کہ جس صحیفہ سے دیکھ کر قرآن کریم حفظ کیا جائے اسی نقشہ اور چھپائی والے قرآن کریم سے دہرائی کی جائے کیونکہ جب صفحات پر بار بار نظر پڑتی ہے تو صفحات بھی ذہن نشین اور نقش ہو جاتے ہیں۔ایک ہی قرآن کریم سے یاد کرنا اور اسی پر دہرائی کرنا مفید رہتا ہے۔بلکہ حفظ کر لینے کے بعد ہمیشہ اس قرآن سے پڑھنا فائدہ مند ہوتا ہے۔یہ بات بھی تجربہ شدہ ہے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع کردہ قاعدہ میسرنا القرآن کے رسم الخط والے 17 سطور ( لائنوں ) والے قرآن کریم کے صحیفہ سے یاد کرنا آسان ہے۔یہ استاد اور شاگرد دونوں کے لئے سہولت اور راحت کا باعث ہے۔بعض والدین اپنے بچوں کو حفظ کرانا چاہتے ہیں لیکن بچے کو اس کا شوق نہیں ہوتا، اس طرح