حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 4 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 4

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 4 پیش لفظ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کے رنگ میں رنگین ہونا اور صفات الہیہ کا مظہر بننا ہے۔اس مقصد کی تکمیل اور انسان کی رشد و ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کا سلسلہ جاری فرما کر تقاضائے زمانہ اور لوازمہء بشریت کے تابع شرائع نازل فرما ئیں اور جب استعدادات انسانی اور قوائے بشری ارتقاء کے لحاظ سے اپنے کمال کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سے ایک اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فردسید الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور آپ کو کامل اور روشن اور پُر از حقائق و معارف شریعت عطا فرمائی اور یہ الہی رموز و حقائق اور ربانی اسرار و دقائق پر مشتمل کتاب قرآن مجید ہے۔اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ حرف بحرف کلامِ الہی ہے۔اس کلام الہی کی تأثیرات کا پہلا اور کامل جلوہ سید نا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات میں ہوا اور كَانَ خُلُقُهُ الْقُرآن“ کے مصداق سرا پا قرآن کا روپ دھار گئے۔ہو اگر تمثیل ممکن اس کلام پاک کی لا جرم اس کا محمد مصطفے کردار ہے امت محمد یہ اس لحاظ سے بہت ہی خوش قسمت ہے کہ اُس کو وہ شریعت ملی جو مکمل ضابطہء حیات ہے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی لفظی اور معنوی حفاظت کا وعدہ بھی فرمایا: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر :10) ترجمہ: بے شک ہم نے ہی اس ذکر ( یعنی قرآن ) کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔چنانچہ نزول قرآن کریم سے لے کر آج تک ہر صدی میں لاکھوں افراد کے مقدس سینے اس کی لفظی حفاظت پر مامور رہے اور قرآن جس کے معنی ہی پڑھی جانے والی کتاب ہے دنیا بھر کے کم و بیش ہر حصہ اور لیل و نہار کی ہر ساعت اس کے زندگی بخش کلمات اور اس کی روح پرور آیات کی سحر انگیز تلاوت سے