حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 5
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 5 معطر اور مخمور ہے۔نیز اس کی معنوی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اُمتِ محمدیہ میں مجددین کرام کا سلسلہ جاری فرمایا جو قرآن کریم میں بیان فرمودہ حقائق و معارف الہیہ اور دقائق و اسرار ربانیہ اور رموز و نکات رحمانیہ تقاضائے عصریہ کے مطابق منکشف فرماتے رہے۔عصر حاضر میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام نے اپنے آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں قرآن کریم سے ایسا سچا عشق اور لازوال پیار کیا کہ فدائیت میں ان کا دل فرط محبت سے جھوم اٹھا۔دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے آپ علیہ السلام نے حقائق و معارف قرآنیہ اور دقائق وغوامض فرقانیہ کے روحانی خزائن عطا فرمائے اور فرمایا: تم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کر وایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو، کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرانِ که تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 ، صفحه (27) حدیث مبارکہ ہے کہ قرآن کریم کے ہر حرف پڑھنے پر دس گنا ثواب ہے۔اور الم سے ایک حرف مراد نہیں بلکہ الف ایک حرف ہے، میم ایک حرف ہے، اور لام ایک حرف ہے۔یہ کتنی پر مغز اور برکتیں بخشنے والی کتاب ہے۔اس کی روزانہ تلاوت اور اس پر غور وفکر کر کے برکتوں کے سمیٹنے کی تڑپ ہر دل میں ہونی چاہیے تا کشت ایمان سرسبز و شاداب رہے۔اور اس کو ہر دم تازہ رکھنے کے لیے غلافوں کی بجائے سینوں میں سجانے اور حفظ کرنے کا جذبہ ہر روح کو دامن گیر ہونا چاہیے تا حفاظت قرآن کے وعدہ الہی کے علمبردار ہونے کی سعادت حاصل کریں۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: سوخدا تعالیٰ نے بموجب اس وعدہ کے چار قسم کی حفاظت اپنے کلام کی کی۔اوّل :