ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 36

36 ہدایات زریں ہوتی ہے کہ لوگ تعریف کریں۔اس میں شک نہیں کہ اپنے کام کا نتیجہ اور کامیابی سنانا بھی ضروری ہوتا ہے جس طرح حضرت صاحب سنایا کرتے تھے۔مگر یہ انتہائی مقام کی باتیں ہیں ابتدائی حالت کی نہیں۔پس مبلغوں کو چاہئے کہ اپنے لیکچروں اور مباحثوں کی خود تعریفیں نہ سنایا کریں اور صرف اتنی ہی بات بتا ئیں جتنی ان سے پوچھی جائے اور وہی بات بتائیں جو انہوں نے کہی۔آگے اس کے اثرات نہ بیان کیا کریں۔یہ بتانا ان کا کام نہیں بلکہ اس مجلس کا کام ہے جس میں وہ اثرات ہوئے وہ خود بتاتے پھریں۔کسی مبلغ کا یہ کہنا کہ میں نے فلاں مخالف کو یوں پکڑا کہ وہ ہکا بکا رہ گیا اور اس کا رنگ فق ہو گیا ، جائز نہیں۔یہ تم نہ کہو بلکہ وہ لوگ کہیں گے جنہوں نے ایسا ہوتے دیکھا۔تمہارے منہ سے ایک بھی ایسا لفظ نہ نکلے جس سے تمہاری خوبی ظاہر ہوتی ہو۔تم صرف واقعات بیان کر دو اور آگے اثرات کے متعلق کچھ نہ کہو۔یہ بات نوجوان اور مبتدی مبلغوں کے لئے نہایت ضروری ہے اور جو استاد ہو جائیں انہیں دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بیان کرنا بعض دفعہ ضروری ہوتا ہے۔آٹھویں ہدایت آٹھویں بات یہ ہے کہ عبادات کے پابند بنو۔اس کے بغیر نہ تم دنیا کو فتح کر سکتے ہو اور نہ اپنے نفس کو۔فرض عبادات تو ہر ایک مبلغ ادا کرتا ہی ہے لیکن ان کے لئے تہجد پڑھنا بھی ضروری ہے۔صحابہ کے وقت تہجد نہ پڑھنا عیب سمجھا جاتا تھا۔مگر اب تہجد پڑھنے والے کو ولی کہا جاتا ہے۔حالانکہ روحانیت میں ترقی کرنے کے لئے تہجد اور نوافل پڑھنے ضروری ہیں۔دوسرے لوگوں کے لئے بھی ضروری ہیں۔مگر مبلغ کے لئے تو بہت ہی