ہدایاتِ زرّیں — Page 35
35 ہدایات زریں روپے خرچ آئے تھے۔پس جہاں تک ہو سکے مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ بہت کم خرچ کرے کیونکہ یہ نمونہ ہوتا ہے دوسروں کے لئے اگر یہی اسراف کرے گا تو لوگ معترض ہوں گے۔اگر ایک تنخواہ دار نخواہ میں سے خرچ کرتا ہے تو اس کا مال ہے وہ کر سکتا ہے لیکن اگر اس طرح کا خرچ ہو جس طرح مبلغوں کا ہوتا ہے اور ایک پیسہ بھی اسراف میں لگائے تو لوگ کہتے ہیں کہ اللے تللے خرچ کرتے ہیں۔اپنی جیب سے تھوڑا ہی نکلنا ہے کہ پرواہ کریں۔اور جب لوگوں کو اس طرح کے اعتراض کا موقع دیا جائے گا تو وہ چندہ میں سستی کریں گے۔ساتویں ہدایت ساتویں بات یہ ہے کہ مبلغ میں خود ستائی نہ ہو۔بہت لوگوں کی تباہی کی یہی وجہ ہوئی ہے۔خواجہ صاحب اپنے لیکچروں کی تعریف خود لکھتے اور دوسروں کی طرف سے شائع کرانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ مولوی صدرالدین صاحب خواجہ صاحب کے ایک لیکچر کی رپورٹ حضرت خلیفہ اول کو سنارہے تھے کہ مولوی صاحب نے اس کے ہاتھ سے وہ کاغذ لے لیا اس کی پشت پر لکھا ہوا تھا کہ جہاں جہاں میں نے اس قسم کے الفاظ لکھے ہیں کہ میں نے یہ کہا یا میری نسبت یہ کہا گیا وہاں خواجہ صاحب لکھ کر شائع کرادیا جائے۔حضرت مولوی صاحب نے وہ خط پڑھ کر مجھے دے دیا اور میں نے اس کی پشت پر یہ ہدایت لکھی ہوئی دیکھی۔اس کا جو نتیجہ نکلاوہ ظاہر ہے۔پس مبلغ کو بھی اس بات پرزور نہ دینا چاہئے کہ فلاں جگہ میں نے یہ بات کہی اور اس کی اس طرح تعریف کی گئی یا اس کا ایسا نتیجہ نکلا کہ مخالف دم بخود ہو گیا۔بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ سنائیں۔ہم نے یہ بات کہی اور اس کا ایسا اثر ہوا کہ لوگ عش عش کرنے لگے۔اس سے ان کی غرض یہ