ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 34

34 ہدایات زریں جاتی ہے۔تو ظاہری صفائی اور ظاہری حالت کے عمدہ ہونے کی بھی بہت ضرورت ہے تا کہ لوگوں کو نفرت نہ پیدا ہو اور وہ بات کرنا تو الگ رہا دیکھنا بھی نہ چاہیں۔مگر ظاہری صفائی سے میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ کالر اور نکٹائی وغیرہ لگانی چاہئے اور بال ایک خاص طرز کے بنائے جائیں۔ان میں سے بعض باتوں کو تو ہم لغو کہیں گے اور بعض کو ناجائز۔مگر جو ضروری صفائی ہے یعنی کوئی غلاظت نہ لگی ہو یا کوئی بو دار چیز نہ لگی ہو اس کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔ہاں یہ بھی نہ کرے کہ ہر وقت کپڑوں اور جسم کی صفائی میں لگا ر ہے کیونکہ اگر ایسا کرے گا تو پھر کام خراب ہو جائے گا۔چھٹی ہدایت چھٹی بات مبلغ کے لئے یہ ہے جس میں بہت کو تاہی ہوتی ہے کہ جو مبلغ دورے پر جاتے ہیں وہ خرچ بہت کرتے ہیں۔میرے نزدیک مبلغ کے لئے صرف یہی جائز ہے کہ وہ کرایہ لے کھانے کی قیمت لے یا رہائش کے لئے اسے کچھ خرچ کرنا پڑے تو وہ لے۔گویا میرے نزدیک قوت لا یموٹ یا ایسے اخراجات جو لازمی طور پر کرنے پڑیں ان سے زیادہ لینا ان کے لئے جائز نہیں ہے۔مثلاً مٹھائی وغیرہ یا اور کوئی مزہ کے لئے چیزیں خریدی جائیں تو ان کا خرچ اپنی گرہ سے دینا چاہئے۔ہماری حالت اور ہمارے کام کی حالت کی وجہ سے جائز نہیں ہے کہ اس قسم کے اخراجات فنڈ پر ڈالے جائیں۔میں نے مولوی صاحب کے زمانہ میں دوستوں کے ساتھ دو دفعہ سفر کیا ہے مگر میرے نزدیک دوستوں کی جو زائد چیزیں تھیں ان کا خرچ اپنے پاس سے دیا اور خود اپنا خرچ تو میں لیا ہی نہ کرتا تھا یہی وجہ تھی کہ کئی آدمیوں کے بنارس تک کے خرچ پر صرف ستر