ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 33

33 ہدایات زریں جتنی شرفاء میں شامل ہونے کے لئے ضروری ہے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں تھوڑی سی محنت سے یہ بات حاصل ہوسکتی ہے۔اس کے لئے ہر علم کی ابتدائی کتابیں پڑھ لینی چاہئیں۔پھر واقعات حاضرہ سے واقفیت ہونی چاہئے۔مثلاً کوئی پوچھے کہ مسٹر گاندھی کون ہے اور مبلغ صاحب کہیں کہ میں تو نہیں جانتا۔تو سب لوگ ہنس پڑیں گے اور اسے حقیر سمجھیں گے۔اس لئے ایسے واقعات سے جو عام لوگوں سے تعلق رکھتے ہوں اور روزمرہ ہور ہے ہوں ان سے واقفیت حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔پانچویں ہدایت پانچویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ غلیظ نہ ہو۔ظاہری غلاظت کے متعلق بھی خاص خیال رکھا گیا ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسجد میں کوئی تھوکتا ہے تو یہ ایک غلطی ہے۔اس کا کفارہ یہ ہے کہ تھوک کو دفن کرے۔(مسنداحمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ۱۷۳) حضرت صاحب کی طبیعت میں کتنی بردباری تھی۔مگر آپ نے اس وجہ سے باہر لوگوں کے ساتھ کھانا کھانا چھوڑ دیا کہ ایک شخص نے کئی چیزیں ساگ، فرنی ، زردہ شور با وغیرہ ملا کر کھایا۔فرماتے تھے کہ اس سے مجھے اتنی نفرت ہوئی کہ قے آنے لگی۔اس کے بعد آپ نے باہر کھانا کھانا چھوڑ دیا۔اور اس طرح لوگ اس فیض سے محروم ہو گئے جو آپ کے ساتھ کھانا کھانے کے وقت انہیں حاصل ہوتا تھا۔پھر حضرت صاحب فرماتے اور میری طبیعت میں بھی یہ بات ہے کہ اگر استرے سے سر کو منڈوا کر کوئی سامنے آئے تو بہت برا لگتا ہے۔اور مجھے تو اسے دیکھ کر سر درد شروع ہو