ہدایاتِ زرّیں — Page 32
32 ہدایات زریں انگریزی دوائیاں استعمال کرنی ہیں تو میں جاتا ہوں۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ تھرما میٹر کوئی دوائی نہیں بلکہ ایک آلہ ہے جس سے بخار کا درجہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کس قدر ہے۔اس نے کہا آلہ ہو یا کچھ اور ہر ایک انگریزی چیز گرم ہوتی ہے اور بیمار کو پہلے ہی بہت زیادہ گرمی ہے۔تو اس قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں عام باتوں کا کچھ علم نہیں ہوتا اور مجلسوں میں سخت حقیر سمجھے جاتے ہیں۔مبلغ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ علم مجلس سے واقف ہو اور کسی بات کے متعلق ایسی لاعلمی کا اظہار نہ کرے جو بیوقوفی کی حد تک پہنچی ہوئی ہو۔حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ تھا جو کسی پیر کا بڑا معتقد تھا اور اپنے وزیر کو کہتا رہتا تھا کہ میرے پیر سے ملو۔وزیر چونکہ اس کی حقیقت جانتا تھا اس لئے ٹلاتا رہتا۔آخر ایک دن جب بادشاہ پیر کے پاس گیا تو وزیر کو بھی ساتھ لیتا گیا پیر صاحب نے بادشاہ سے مخاطب ہو کر کہا۔بادشاہ سلامت ! دین کی خدمت بڑی اچھی چیز ہے سکندر بادشاہ نے دینِ اسلام کی خدمت کی اور وہ اب تک مشہور چلا آتا ہے۔یہ سن کر وزیر نے کہا دیکھئے حضور! پیر صاحب کو ولایت کے ساتھ تاریخ دانی کا بھی بہت بڑا ملکہ ہے اس پر بادشاہ کو اس سے نفرت ہو گئی۔حضرت صاحب یہ قصہ سنا کر فرمایا کرتے تھے کہ علم مجلس بھی نہایت ضروری ہے۔جب تک انسان اس سے واقف نہ ہو دوسروں کی نظروں میں حقیر ہو جاتا ہے۔اسی طرح آداب مجلس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے مثلاً ایک مجلس مشورہ کی ہو رہی ہو اور کوئی بڑا عالم ہو۔مگر اس مجلس میں جا کر سب کے سامنے لیٹ جائے تو کوئی اس کے علم کی پرواہ نہیں کرے گا اور اس کی نسبت لوگوں پر بہت برا اثر پڑے گا۔پس یہ نہایت ضروری علم ہے اور مبلغ کا اس کو جاننا بہت ضروری ہے۔ہر ایک مبلغ کو چاہئے کہ وہ جغرافیہ ، تاریخ ، حساب ، طب، آداب گفتگو، آداب مجلس و غیرہ علوم کی اتنی اتنی واقفیت ضرور رکھتا ہو