ہدایاتِ زرّیں — Page 31
31 ہدایات زریں متعلق قلق ہو۔جس جگہ گئے وہاں ایسے افعال کئے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ ہمارا ہمدرد ہے۔اگر لوگوں پر یہ بات ثابت ہو جائے تو پھر مذہبی مخالفت سرد ہو جائے کیونکہ مذہبی جذبات ہی ساری دُنیا کام نہیں کر رہے۔اگر یہی ہوتے تو ساری دنیا مسلمان ہوتی۔پس مبلغ کے لئے نہایت ضروری ہے کہ وہ جہاں جائے وہاں کے لوگوں پر ثابت کر دے کہ وہ ان کا ہمدرد اور خیر خواہ ہے۔جب لوگ اسے اپنا خیر خواہ سمجھیں گے تو اس کی باتوں کو بھی سنیں گے اور ان پر اثر بھی ہوگا۔چوتھی ہدایت چوتھی بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ دنیاوی علوم سے جاہل نہ ہو۔اس سے بہت برا اثر پڑتا ہے۔مثلاً ایک شخص پوچھتا ہے کہ جاوا کہاں ہے؟ گواس کا دین اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر کوئی نہ جانتا ہو تو اس کے مذہب میں کوئی نقص نہیں آ جائے گا۔مگر جب ایک مبلغ سے یہ پوچھا جائے گا اور وہ اس کے متعلق کچھ نہیں بتا سکے گا تو لوگ اسے حقیر سمجھیں گے کہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ جاوا کہاں ہے جہاں تین کروڑ کے قریب مسلمان بستے ہیں۔تو مبلغ کو جنرل نالج حاصل ہونا چاہئے تا کہ کوئی اسے جاہل نہ سمجھے۔ہاں یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک علم کا عالم ی ہو لیکن کچھ نہ کچھ اقلیت ضرور ہونی چاہئے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ آپ ایک بیمار کو دیکھنے کے لئے گئے۔وہاں ایک طبیب صاحب بھی بیٹھے تھے۔آپ نے اہل خانہ سے پوچھا کہ تھرما میٹر لگا کر بیمار کو دیکھا ہے یا نہیں۔طبیب صاحب نے آ کر کہا اگر آپ نے