حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 11
۔۔۔۔ایسے کو جس کا بیٹا اُسے جلال بخشتا ہے آریوں کے الیشور کی تو ماں اسکی جان کی حفاظت کرتی تھی۔بعیسائیوں کے خدا کا بیٹا اُسے عزت بخشتا ہے کیوں نہ ہو سپوت ایسے ہی ہوتے ہیں۔پھر اُسے بے خطا جہنم میں جھونکنا کیسی حسن کسی نا انصافی ہے۔ایسے کو جو یقینا و ناباز ہے پچھتاتا بھی ہے۔تھک جاتا بھی ہے ایسے کو جس کی دو جوریں ہیں۔دونوں پکی زنا کار حد بھر کی فاحشہ۔ایسے کو جب کسی لئے زنا کی کمائی فاحشہ کی خرچی کہاں مقدس پاک کمائی ہے۔د العطايا النبوية في الفتاوى الرضوية - جلد اكتاب الظهارة باب التيم نت ناشر شیخ غلام علی اینڈ سنز تاجران کتب شیری بازار لا ہوا (۳) امرتسر سے اہلحدیث مسلک کے نامورعالم مولانا ابوالو انشاء اللہ امرتسری صاحب کا اخبار اہلحدیث اپنی ۳۱ مارچ ۱۹۳ بروز جمعہ کی اشاعت میں یہ لکھتا ہے :- (ن) " صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح خود اپنے اقرار کے مطابق کوئی نیک انسان نہ تھے۔شاید کوئی کہے کہ کہ نفسی سے سیج نے ایسا کہا تو اس کا جواب یہ ہے کہ عیسائیوں کے اعتقاد کے مطابق مسیح کی انسانیت سب انسانوں کی انسانیت سے برتر ہے اور اس میں گناہ اور خطا کاری کا کوئی شائبہ نہیں۔تو پھر جب وہاں کسی طرح کا نقص اور گناہ نہیں تو پھر سیح کا اپنے آپ کو نیک کا مصداق نہ قرار دینا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کیونکہ کرفسی سے وہی قول صحیح ہو سکتا ہے جس کی صحت کسی طرح سے ہو سکے۔مثلاً اور لوگ کیسے ہی نیک ہوں مگر چونکہ ان کی انسانیت میں نقص ہے تو بنا بریں وہ اپنے کو ناقص کہہ سکتا ہے مگر حضرت مسیح کی انسانیت ہر برائی سے منزہ ہے