حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن

by Other Authors

Page 14 of 32

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 14

14 اس بچے کی برکت سے خوراک کا کوئی مسئلہ نہ رہا۔بکر یاں خوب دودھ دینے لگیں۔وہ خوب سمجھ گئیں کہ حضرت آمنہ نے ٹھیک ہی کہا تھا بچہ بہت برکت والا ہے۔حلیمہ کی بیٹی شیما کو ننھے مہمان سے بہت پیار ہو گیا۔ہر وقت گود میں لئے پھرتیں۔ان خواتین سے سیکھ کر آپ نے ہوازن کے قبیلہ سعد کی زبان بولنا شروع کی۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں تم سب سے فصیح تر نبی ہوں کیونکہ میں قریش خاندان سے ہوں اور میری زبان بنی سعد کی زبان ہے۔“ (طبقات ابن سعد جلد 1 صفحہ 71) بچو! عربی زبان میں اس خاتون کو، جس کا دودھ پیا ہو، رضاعی والدہ کہتے ہیں، رضاعی ماں کے بچے رضاعی بہن بھائی کہلاتے ہیں۔اس طرح وہ عرصہ جس میں رضاعی ماں کا دودھ پیا ہو عرصہ رضاعت کہلاتا ہے۔دوسال کا عرصہ رضاعت گزرا تو حلیمہ آپ کو آپ کی والدہ کے حوالے کرنے مکہ آئیں۔حوالے کرنے آ تو گئیں مگر دل بالکل نہیں چاہ رہا تھا کہ آپ کو خود سے جدا کریں آپ سے سب گھر والوں کو بہت محبت ہو گئی تھی۔ماں کو ملانے کے بعد درخواست کی کہ کچھ عرصہ مزید اس با برکت حسین بچے کو اُن کے ساتھ رہنے دیا جائے ان دنوں مکہ میں کوئی وبا پھیلی ہوئی تھی اُن کو اچھا بہانہ ہاتھ لگا کہنے لگیں کہ مکہ کی آب و ہوا میں ان کے بیمار پڑنے کا اندیشہ ہے اگر آپ اجازت دیں تو ابھی کچھ عرصہ اور اپنے ساتھ بچے کو رکھ لوں۔حضرت آمنہ کو بچے کی سلامتی کا اتنا خیال تھا کہ دل نہ چاہتے ہوئے بھی اجازت دے دی۔حلیمہ اپنے گھر واپس گئیں تو بچے کو ساتھ دیکھ کر ان کے بچے خوشی سے کھل اُٹھے۔حلیمہ کے چار بچے تھے عبداللہ انیسہ ، حذیفہ اور حذافہ۔حذافہ کا دوسرا نام شیما تھا۔آپ اپنے رضاعی بھائی بہنوں کے ساتھ کھلی فضا میں کھیلتے اور جب وہ بکریاں چرانے جاتے تو آپ بھی ساتھ جاتے۔کبھی کبھی گھر سے دور بھی نکل جاتے۔