حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 15
15 آپ بکریوں کی حفاظت بڑی ہوشیاری سے کرتے۔آپ بہت بہادر بچے تھے۔ایک دن کیا ہوا کہ آپ دوسرے بچوں کے ساتھ بکریاں چرا رہے تھے کہ اچانک گھوڑوں پر سوار ڈاکو آگئے آتے ہی بکریاں جمع کر کے ہانک کر لے جانے لگے آپ ایک ننھے معصوم بچے تھے مگر دلیروں کی طرح اُن کے راستے میں ڈٹ کر کھڑے ہو گئے اور کہا میں یہ بکریاں نہیں لے جانے دوں گا کیونکہ یہ گاؤں والوں کی ہیں۔ہم انہیں چرانے لائے تھے۔میں آپ کو مالکوں کا مال نہیں لے جانے دوں گا۔“ ڈاکوؤں کو حیرت ہوئی کہ سب لوگ ہمارے خوف اور دہشت سے کانپنے لگتے ہیں یہ کیسا بچہ ہے جو ڈاکوؤں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔خاص طور پر ان کا سردار بہت جھلا یا۔طیش میں آکر آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک معصوم بچہ بڑے اعتماد سے بازو پھیلائے راستہ رو کے کھڑا ہے۔اس خوبصورت پُر عزم بچے پر نظر پڑتے ہی سردار کو اندازہ ہوا کہ یہ کوئی معمولی بچہ نہیں۔پوچھا تمہارا نام کیا ہے؟ کس کے بیٹے ہو؟ عبدالمطلب کے سردار سمجھ گیا کہ قریش خاندان کا بچہ ہی ایسا بہادر ہوسکتا ہے۔بکریاں چھوڑ دیں۔محمد کو سلام کیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس چلا گیا۔اب ایک اور واقعہ سنو ایک دن آپ روزانہ کی طرح اپنے رضاعی بھائی عبداللہ کے ساتھ اپنے گھر کے پچھواڑے بکریاں چرا رہے تھے۔آپ دونوں ہی تھے کوئی اور نہیں تھا۔آپ کی عمر انداز آچار سال تھی اچانک سفید کپڑے پہنے ہوئے دو اجنبی آدمی برف سے بھرا ہوا طشت لے کر آئے۔حضرت محمد ملالہ کو زمین پر لٹایا اور