سوانح حضرت عثمان غنی ؓ

by Other Authors

Page 10 of 24

سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 10

17 16 وسلم نے ایک مبارک خواب دیکھا کہ آپ چودہ پندرہ سو صحابہ کے ساتھ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اور صحابہ کے سر کے بال پورے منڈے ہوئے ہیں یا چھوٹے چھوٹے کیسے ہوئے ہیں۔آنحضرت نے خدائی حکم سمجھ کر چودہ پندرہ سو صحابہ کو ساتھ لیا اور طواف کے لیے کعبہ کی طرف روانہ ہوئے۔قریش کو علم ہوا تو وہ جنگ کی تیاری کرنے لگے اور مکہ میں داخل ہونے کے تمام راستے بند کر کے کھڑے ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچ کر قریش کے ساتھ بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا اور حضرت عثمان کو اسلام کا سفیر بنا کر قریش مکہ کے پاس بھیجا۔جیسا کہ شروع میں لکھا جا چکا ہے کہ آپ کے بارے میں مشہور ہو گیا کہ شاید قریش نے آپ کو شہید کر دیا ہے۔چونکہ آپ سارے مسلمانوں کے نمائندہ تھے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اگر یہ خبر درست ہوئی تو ہم مکہ والوں سے جنگ کریں گے اور حضرت عثمان کا بدلہ لیں گے۔یہ کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا۔اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ سے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر بیعت لی اور آخر میں اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر خود ہی حضرت عثمان کی طرف سے بیعت لی۔لیکن تھوڑی ہی دیر بعد حضرت عثمان تشریف لے آئے اور ان کی شہادت کی افواہ غلط ثابت ہوئی۔دراصل آپ کے غیر مسلم رشتہ دار آپ سے ملنے لگ گئے تھے اس لیے آپ کو واپس آنے میں دیر ہوگئی۔بہر حال آپ کے سمجھانے پر قریش حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش مکہ کے نمائندہ سہیل بن عمرو کے درمیان جنگ بندی کا با قاعدہ معاہدہ ہوا۔جس کی کئی شرائط تھیں اور اگر بعد میں قریش اس معاہدہ کی خلاف ورزی نہ کرتے تو دس سال تک قریش اور مسلمانوں میں کوئی جنگ نہ ہوتی۔بہر حال اس معاہدے کی رو سے یہ طے ہوا کہ اگلے سال مسلمان خانہ کعبہ کا طواف کر سکیں گے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صلح حدیبیہ کو فتح مبین یعنی کھلی کھلی فتح قرار دیا ہے۔چونکہ امن قائم ہونے کے بعد اسلام کو غیر معمولی ترقی نصیب ہوئی اور اس دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حکمرانوں اور بادشاہوں کو تبلیغی خطوط روانہ فرمائے اور برسوں بعد صحابہ اپنے غیر مسلم رشتہ داروں اور تعلق داروں کے ساتھ مل بیٹھے اور افہام و تفہیم کے ذریعے اسلام کو کافی ترقی نصیب ہوئی۔دوسال تک قریش اس معاہدہ پر قائم رہے اور اس دوران اتنے لوگ مسلمان ہوئے کہ جنگ کے دنوں میں مسلمان ہونے والوں سے آٹھ دس گنا زیادہ ہوں گے اور اسلام کا پیغام روم اور ایران کے بادشاہوں قیصر و کسری کے ایوانوں تک پہنچ گیا۔چند ایک خاص صحابہ تھے جن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط لکھوائے اور ان صحابہ میں حضرت عثمان بطور خاص شامل تھے۔اسلام کے سفیر کے طور پر حضرت عثمان کا حدیبیہ میں خدمت سرانجام دینا آپ کی زندگی کا ایک نہایت اہم واقعہ ہے اور اپنے دُور رس نتائج کے پیش نظر ایک بہت بڑی خدمت ہے۔معاہدے کے مطابق صلح حدیبیہ کے اگلے سال یعنی 7 ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ مکہ روانہ ہوئے اور کعبہ کا طواف فرمایا۔جسے عمرہ کہتے ہیں کیونکہ حج کے مخصوص دنوں کے علاوہ جب بھی حج کی طرح کعبہ کا طواف کیا جائے تو اسے عمرہ کہتے ہیں۔اس سفر میں حضرت عثمان بھی شامل تھے اور اس طرح کئی سالوں کی بندش کے بعد طواف کعبہ اور مناسک کے دوران آنحضرت کے ساتھ حضرت عثمان کو بھی باقی صحابہ کی طرح اللہ تعالیٰ سے بہت دعائیں کرنے کی توفیق ملی۔