سوانح حضرت عثمان غنی ؓ

by Other Authors

Page 16 of 24

سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 16

29 28 حضرت عمر فاروق کی وصیت کے مطابق ان کی وفات کے تیسرے دن تمام مسلمان مسجد نبوی میں اکٹھے ہوئے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حضرت عثمان کو محراب میں بلایا اور کہا کہ پہلے خدا کو حاضر ناظر جان کر عہد کریں کہ قرآن کریم اور سنت نبوی اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق کے طریق پر چلیں گے اور جب حضرت عثمان نے عہد کر لیا تو حضرت عثمان کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر پہلے حضرت عبدالرحمن بن عوف نے بیعت کی اور اس کے بعد تمام حاضرین نے حضرت عثمان کے ہاتھ پر بیعت کی۔جس روز انتخاب ہوا وہ یکم محرم 24 ہجری مطابق 7 نومبر 644ء کا دن تھا۔خلیفہ ثالث کا پہلا خطاب بیعت لینے کے بعد خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور ایک معرکۃ الآراء تقریر کی جس کا خلاصہ یہ ہے فرمایا: ”لوگو! خدا سے ڈرو اور مال و دولت کے فتنہ میں پڑنے سے اپنے آپ کو بچاؤ۔امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا اور دنیا کے مال و متاع جیسا کہ خدا وند تعالیٰ نے فرمایا ہے لہو ولعب اور زینت کا سامان ہے اور آپس میں فخر وغرور کا باعث ہے۔یاد رکھو! اموال و اولاد کی کثرت اس بارش کی مانند ہے جو خشک و بنجر زمینوں کو سرسبز و شاداب بنا دے اور کفار اس کے نتائج میں لہلہاتے ہوئے کھیتوں کو دیکھ کر خوش ہو جائیں اور فخر و غرور کرنے لگیں۔پھر ایک تیز و تند ہوا آئے اور ان کھیتوں کو خشک کر کے زرد بنا دے اور پھر ان کا ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے۔آخرت میں خدا کا سخت عذاب بھی ہے اور بخشش درحمت بھی اور دنیا کی زندگی تو صرف غرور کی کنجی ہے۔دنیا میں بہترین شخص وہ ہے جو خدا پر بھروسہ رکھے اور اس کی پناہ میں رہے اور اللہ اور اس کی کتاب کو مضبوط پکڑے رہے۔لوگو! مجھے تمہاری راہنمائی کی اہم خدمت سپرد کی گئی ہے۔اس کام میں میں صرف خدا ہی کی مدد چاہتا ہوں اور بھلائی کی توفیق خدا ہی کی طرف سے ملتی ہے۔میں خدا سے ہی توفیق کا طالب ہوں۔اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔“ یہ کہہ کر آپ منبر سے نیچے اتر آئے اور تمام لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔اس کے بعد حضرت عثمان نے مختلف صوبوں کے حاکموں اور فوج کے افسروں کے نام فرمان جاری کیسے کہ رعایا کے ساتھ عدل و انصاف کا برتاؤ کرو اور جس طرح سابقہ خلفاء کے زمانے میں مذہبی اور سیاسی امور کو نیک نیتی اور تن دہی سے انجام دیتے آئے ہو اسی پر کام کرتے چلے جاؤ۔نظام حکومت حضرت عمرؓ جو نظام حکومت چھوڑ گئے تھے اسی کو آپ نے جاری رکھا اور کوئی خاص تبدیلی نہ فرمائی۔البتہ بعد میں ضرورت کے مطابق آپ نے بعض گورنر تبدیل فرمائے۔چنانچہ حجاز کے صوبہ میں کوئی تبدیلی نہ فرمائی۔کوفہ میں تبدیلی کے بارے میں حضرت عمر وصیت فرما گئے تھے۔ان کی وصیت کے مطابق مغیرہ بن شعبہ کو ہٹا کر سعد بن ابی وقاص کو کوفہ کا گورنر مقرر کر دیا۔بصرہ کے گورنر ابو موسیٰ اشعری تھے۔کوفہ میں شورش اٹھی تو آپ نے ابو موسیٰ اشعری کو بصرہ سے تبدیل کر کے کوفہ بھیج دیا اور بصرہ میں عبداللہ بن عامر کو گورنر مقرر کر