سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 15
27 26 اسلام کو ہر لحاظ سے غیر معمولی ترقیات نصیب ہوئیں۔اسلامی سلطنت مشرق میں افغانستان اور ہند کی سرحدوں تک اور مغرب میں مصر کی آخری حدود تک ، شمال میں شام سے آگے تک اور جنوب میں یمن سے آگے تک پہنچ چکی تھی۔چنانچہ ملکی انتظام اور استحکام سلطنت کے لیے حضرت عمرؓ نے غیر معمولی اصلاحات فرما ئیں اور مذہبی آزادی اور امن قائم کیا۔بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لیے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے۔اس کے پیچھے یقیناً حضرت عثمان اور دوسرے جلیل القدر صحابہ کے قیمتی مشورے، محنت اور بے لوث خدمات بھی کارفرما رہیں جو حضرت عمر فاروق کے عہد کو سنہری عہد بنانے کا باعث بنے۔حضرت عمر فاروق پر 23 ذی الحجہ 23 ہجری کو قاتلانہ حملہ ہوا۔حضرت عمرؓ نے خلافت کے انتخاب کے لیے ایک کمیٹی مقرر کر دی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ” عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، طلحہ بن عبید اللہ ، زبیر بن العوام اور عبداللہ بن عمر کے مشورے سے کسی ایک کو میری وفات سے تین دن کے اندراندر خلیفہ مقررکر لینا۔“ یہ سب ان جلیل القدر صحابہ میں سے تھے جنہیں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت نصیب ہوئی اور حضرت عمرؓ کے عہد تک انہوں نے اسلام کی بہترین خدمات سرانجام دی تھیں اور نظام خلافت کی پوری پوری اطاعت کر کے دکھائی تھی۔حضرت عثمان کا دور خلافت حضرت عمر کی وفات 27 ذی الحجہ 23 ہجری کو ہوئی اور اس کے تین دن بعد حضرت عثمان کو کثرت رائے سے خلیفہ ثالث منتخب کیا گیا۔حضرت عثمان اب 70 سال کے ہو چکے تھے۔آپ نے 35 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا۔23 سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر خدمات کی توفیق پائی اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق کی خلافتوں کے دوران جن کا عرصہ بارہ سال سے کچھ زیادہ بنتا ہے خدمات سرانجام دیں لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں خلیفہ بن کر بھی آپ نے مزید اتنے سال خدمت دین کی توفیق پانی تھی جتنے سال مجموعی طور پر حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی خلافتوں کا زمانہ بنتا ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض پیشگوئیاں بھی آپ کے خلیفہ بننے کے بارہ میں موجود تھیں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: عثمان ! اللہ تعالیٰ تم کو ایک گر نہ پہنائے گا۔اگر لوگ تم سے یہ مطالبہ کریں کہ اس گرنہ کو اتار دو تو تم ہر گز اس کو نہ اتارنا۔اس پیشگوئی میں حضرت عثمان کی خلافت کی پوری تصویر کھینچ دی گئی تھی کہ آپ خلیفہ ہوں گے اور دورانِ خلافت کو ئی فتنہ نمودار ہو گا اور فتنہ کرنے والے آپ کو خلافت چھوڑنے پر مجبور کریں گے تا کہ خلافت راشدہ کسی طرح ختم ہو جائے اور مسلمانوں کی وحدت اور طاقت منتشر ہو جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نصیحت فرمائی کہ ایسی صورت میں اپنے منصب پر مضبوطی سے قائم رہنا ہے۔چنانچہ حضرت عثمان کے دور خلافت میں جہاں اسلام کو مزید ترقیات نصیب ہوئیں اور سلطنت کو وسعت ملی وہاں فتنوں نے بھی سر اٹھایا اور بالآخر آپ بھی شہید ہو گئے۔انتخاب خلافت جن جلیل القدر صحابہ کی خلافت ثالثہ کے انتخاب کے لیے کمیٹی بنائی گئی تھی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف نے ان کی نمائندگی میں تین دن تک گلیوں اور بازاروں میں پوشیدہ طور پر بھی لوگوں کی رائے معلوم کرنے کی کوشش کی۔اکثر لوگوں کے دلوں کو خدا تعالیٰ نے حضرت عثمان کی طرف جھکا دیا تھا۔