سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 17
31 30 دیا۔شام کے گورنر حضرت عمرؓ کے عہد سے امیر معاویہ بن ابوسفیان تھے اور آخر تک وہی رہے۔مصر کے گورنر عمرو بن العاص تھے۔بعد میں عبداللہ بن سعد ابی سرح کو گورنر مصر بنا دیا گیا۔افریقہ کی فتح آپ کے زمانہ میں ہوئی اور وہاں کا گورنر عبداللہ بن نافع کو بنادیا گیا۔حضرت عثمان کی خلافت کے اہم واقعات وفتوحات اسلام کی ترقی کو دیکھ کر دشمن نے تلوار کے زور سے اسے روکنا چاہا۔چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف بادشاہوں کو جب تبلیغی خطوط لکھے تو اس وقت فارس اور روم کی دو عظیم الشان سلطنتیں دنیا پر حکومت کرتی تھیں۔فارس کی سلطنت عراق، ایران اور براعظم ایشیا کے اکثر علاقے پر مشتمل تھی۔روم کی حکومت پہلے تمام یورپ ، مصر اور ایشیائے کو چک تک پھیلی ہوئی تھی اور اس کا مرکز اٹلی کا شہر روم تھا۔بعد میں اس حکومت کے دو ٹکڑے ہو گئے۔مغربی روم کی حکومت کا مرکز تو اٹلی کا شہر روم ہی رہا لیکن مشرقی روم کا مرکز قسطنطنیہ ہو گیا۔مشرقی روم کی حکومت شام، فلسطین، مصر، حبشہ اور ایشیائے کو چک پر مشتمل تھی۔فارس کا حکمران اعلیٰ کسری فارس کہلاتا تھا اور روم کا حکمران اعلیٰ قیصر روم کہلاتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو تبلیغی خطوط روانہ فرمائے تھے۔کسری فارس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خط جلا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کا حکم دے دیا اور جنگ کی تیاری کرنے لگا۔ادھر شام کے غسانی بادشاہ کو جب دعوت اسلام بھیجی گئی تو اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو شہید کر دیا۔چنانچہ 9 ہجری میں جنگ موتہ سے اس کے ساتھ جنگوں کا آغاز ہو گیا تھا۔قیصر روم ہر قل نے کثیر فوجیں شام میں بھیج دیں اور اس طرح فارس اور روم کے ساتھ مسلمانوں کی جنگیں شروع ہوگئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ خندق کے موقع پر ایک پتھر توڑتے ہوئے کشفی نظارہ دکھایا گیا تھا کہ مسلمانوں کے ہاتھوں یہ علاقے فتح ہوں گے۔چنانچہ حضرت ابو بکڑ کے زمانہ میں حضرت خالد بن ولید اور ان کے ساتھیوں کے ذریعے جنوبی عراق اور شام کا کچھ حصہ فتح کرلیا گیا تھا اور شام میں دمشق کا محاصرہ جاری تھا کہ حضرت ابو بکر مدینہ میں وفات پاگئے اور حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فارس کی طرف عراق، مدائن، ایران میں آذربائیجان، طبرستان، آرمینیا، کرمان، سیستان ، مکران اور خراسان تک کے علاقے فتح ہو گئے تھے اور روم میں شام، فلسطین، بیت المقدس اور مصر فتح ہو چکے تھے اور مفتوحہ علاقوں کو صوبوں میں تقسیم کر کے ایک عظیم الشان اسلامی سلطنت قائم ہو چکی تھی لیکن رومی اور ایرانی اپنی طاقت جمع کر کے اپنے علاقے واپس لینے کی کوشش کر رہے تھے اور جنگ و جدل کا سلسلہ ابھی جاری تھا کہ 23 ہجری میں حضرت عمرؓ کا وصال ہو گیا اور حضرت عثمان خلیفہ ہوئے۔حضرت عثمان کے عہد میں بھی رومیوں اور ایرانیوں کے ساتھ کئی جنگیں ہوئیں۔بعض علاقوں کو دوبارہ فتح کرنا پڑا اور کئی نئے علاقے فتح ہو کر اسلامی پرچم تلے جمع ہو گئے۔حضرت عمرؓ نے عراق میں دریائے فرات کے کنارے کوفہ نام کا ایک شہر تعمیر کروایا تھا جس کے وسط میں ایک جامع مسجد تعمیر کروائی تھی۔جس میں چالیس ہزار مسلمان نماز پڑھ سکتے تھے۔اسی طرح عراق اور ایران کی سرحد پر بصرہ بھی حضرت عمر نے ہی تعمیر کروایا تھا اور ان دونوں اہم شہروں میں مسلمان آباد ہوئے تھے۔اس زمانہ میں عراق کے تمام مقامات آرمینیا تک کوفہ کے ماتحت تھے اور ایران کے مقبوضات بصرہ کے ماتحت تھے۔حضرت عثمان کے عہد خلافت میں ان دونوں صوبوں کی فوج نے بعض مواقع پر اکٹھے اور بعض پر اکیلے ایران کی آخری حدود تک علاقوں کو فتح کر لیا اور ایران کا آخری بادشاہ یزدگرد مارا گیا اور ایران کے ساسانی خاندان کا خاتمہ ہوا۔