سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 14
25 24 آپ بہت خوش اخلاق تھے اور آپ کی شرافت، شرم و حیا اور جود وسخا کی وجہ سے آپ کے قریش کے شرفاء کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔آپ کو خدا تعالیٰ نے عقل وفراست سے نوازا تھا اس لیے دعوت الی اللہ کا کوئی موقع آپ ضائع نہیں کرتے تھے اور آپ کی مقبولیت اور نیک شہرت کی وجہ سے لوگ کھل کر آپ سے تبادلہ خیال کرتے اور کئی کئی دن آپ کے پاس رہ کر آپ کی مہمان نوازی سے بھی لطف اندوز ہوتے۔حضرت ابوبکر کے دور میں خدمات حضرت ابو بکر کے دور خلافت میں ایک فتنہ نمودار ہوا جس میں قبائل عرب نے بغاوت کر دی۔یہ فتنہ ختم ہوا تو عراق اور شام کے ساتھ جنگیں شروع ہو گئیں۔حضرت ابوبکر نے یہ پسند فرمایا کہ حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علیؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کو میدان جنگ کی بجائے اپنے پاس مدینہ میں ہی رکھا جائے۔حضرت عثمان بھی حضرت ابو بکر صدیق" کے خاص مشیروں اور معتمدین میں سے تھے اور آپ کا دست و بازو بن کر خدمات کی توفیق پاتے رہے۔حضرت ابو بکر کے امور خلافت میں آپ نہایت قیمتی مشورے دیا کرتے تھے۔بعض ضروری خطوط اور حالات لکھنا بھی آپ کے ذمہ تھا۔حضرت ابوبکر کے زمانہ میں آپ کو مالی خدمات کی بھی توفیق ملتی رہی۔چنانچہ ایک مرتبہ مدینہ میں سخت قحط پڑا۔انہیں دنوں حضرت عثمان کے ایک ہزار غلہ کے اونٹ باہر سے آئے۔مدینہ کے دوسرے تاجروں نے بہت سا روپیہ دے کر غلہ خریدنا چاہا لیکن آپ کے دل میں غریبوں کے لیے ہمدردی تھی وہ غالب رہی اور سارا غلہ مدینہ کے غرباء کے لیے وقف کر دیا۔حضرت ابو بکر آپ کے اس فعل سے بہت خوش ہوئے۔اپنی خلافت کے دوران حضرت ابوبکر جب حج کے لیے مکہ تشریف لے گئے تو آپ کو مدینہ میں اپنا نائب بنا کر چھوڑ گئے۔حضرت ابو بکڑ نے وفات سے قبل حضرت عمرؓ کو خلیفہ نامزد کر نے کا ارادہ کیا اور اس کے لیے بعض بزرگ صحابہ سے مشورہ لیا۔جب آپ سے پوچھا تو آپ نے حضرت ابوبکر کی خدمت میں عرض کیا کہ جہاں تک میں جانتا ہوں ان کا باطن ان کے ظاہر سے بھی اچھا ہے اور ہم میں سے کوئی شخص ان کے برابر نہیں۔چنانچہ حضرت ابو بکر نے آپ کا مشورہ قبول فرمایا اور حضرت عمرؓ کو اپنے بعد خلیفہ نامزد فر مایا اور اس کے لیے باقاعدہ ایک عہد نامہ لکھوایا۔حضرت ابو بکر کے ارشاد پر اس عہد نامہ کی تحریر حضرت عثمان نے تحریر فرمائی۔حضرت عمرؓ کے دور میں خدمات حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ خلیفہ ثانی بنے اور حضرت عمرؓ کی خلافت کا آغاز 22 جمادی الثانی 13 ہجری مطابق 22 اگست 634ء کو ہوا۔حضرت عمر اگر چہ عمر میں حضرت عثمان سے چھوٹے تھے اور بعد میں ایمان لائے تھے لیکن آپ حضرت عمر کی اسی طرح اطاعت کرتے تھے جس طرح حضرت ابو بکر کی کرتے تھے۔حضرت عمرؓ بھی آپ کی بہت قدر کیا کرتے تھے۔اور آپ سے اہم معاملات میں مشورہ لیتے تھے۔حضرت عمر کے عہد میں مسلمانوں کو غیر معمولی فتوحات نصیب ہوئیں۔حضرت عمر نے بھی حضرت ابو بکر کی طرح ممتاز صحابہ کو مدینہ میں رکھنا پسند فرمایا اور انہیں میدان جنگ میں نہ بھیجا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب استحکام سلطنت کے لیے مختلف محکمے بنائے تو آپ کو صدقات کے حساب کتاب پر مامور فرمایا۔آپ امین خلافت کہلاتے تھے۔حضرت عمر فاروق کا زمانہ خلافت دس سال کے لگ بھگ تھا اور اس قلیل عرصہ میں