حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 54 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 54

طرف ایک قبرستان تھا جو ان کے آبا ؤ اجداد کا تھا وہاں دفن کر دیئے۔پھر میں ایک ماہ کابل میں ٹھہرا تا کہ معلوم ہو جائے کہ اگر گرفتاری ہو تو مجھ پر ہو۔میرے اہل وعیال کو تکلیف نہ ہو۔بعد اس کے میں گھر آیا اور میں نے گھر میں کہا کہ میں تو جاتا ہوں لیکن اس اثناء میں کسی نے حاکم سے یہ رپورٹ کی کہ یہ مرزا کے پاس قادیان جاتا ہے۔اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حج کو چلا ہوں۔حاکم نے آدمی پکڑنے کو بھیجے۔گھر میں میرا بھائی اور چا کا بیٹا تو نہیں تھا لیکن مجھے اور میرے چا کو لے گئے وہاں میں نے حاکم سے کہا کہ غرض تو میرے ساتھ ہے رپورٹ بھی میری ہوئی ہے۔میرے چا کو چھوڑ دو۔چونکہ حاکم میرا دوست تھا میرے چچا کو چھوڑ دیا اور مجھے رکھ لیا۔پھر میں نے کہا کہ اگر میں حج کو جاتا تو میں اپنی جائیداد خرچ کے لئے بیچتا لیکن آپ دریافت کرالیں میری جائیداد ویسی کی ویسی ہے اور میں زمیندار آدمی ہوں۔میرے پاس اتنی دولت کہاں ہے کہ بغیر جائیداد بیچنے کے جاؤں۔تب مجھے حاکم نے چار پانچ روز تک نظر بند کر لیا۔کچھ آدمی میرے پاس آئے کہ ہم تمہارے ضامن ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا کہ نہیں تم میرے ضامن نہ بنو۔میں ضرور جاؤں گا۔آپ کو بے فائدہ تکلیف ہوگی میرے گردا گر دلو ہے کی چار دیواری ہو تو وہ بھی مجھے راستہ دیگی اور میں انشاء اللہ تعالیٰ چلا جاؤں گا۔اس طرح دھو کے سے اور کسی کو ضمانت میں پھنسا کر جانا نہیں چاہتا۔کچھ روز بعد میں گھر گیا اور رات کے بارہ بجے جانے کا ارادہ کر لیا۔تمام بال بچوں سے پوچھا تو سب نے رضامندی سے جانے کی اجازت دی۔رات کے وقت گاؤں کے نمبر دار وغیرہ میرے پاس آئے کہ نہیں ہم نہیں جانے دیں گے یونہی ہم عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے۔جب میں نے ارادہ روانگی کا کیا تو تمام ملک اور زمین وغیرہ میرے سامنے ہو گئے کہ کیا ہمیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے۔تب میں نے کہا کہ اچھا میں وزن کروں گا کہ آیا اللہ تعالیٰ کا فضل بہتر ہے یا ملک و دولت اس خواہش کے ہوتے ہوئے اسی وقت تمام نظارہ غائب ہو گیا۔پھر میں نے گاؤں کے نمبر دار وغیرہ کو کہا کہ میں نے اور میرے باپ دادا نے آپ لوگوں کو خدا کا کلام سنایا، لکھایا اور پڑھایا کیا تم چاہتے 54