حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 53
جگہ پر تین روز تک پہرہ رہا۔بعد اس کے وہاں ایک میگزین ہے اس کے سپرد کیا کہ شہید مرحوم کو کوئی نکال کر نہ لے جائے۔احتیاط کے لئے ہم نے ایک آدمی کو پہرہ کے لئے مقرر کیا اور ہم باقیوں نے پتھر ہٹا کر صاف میدان کر دیا جب وہ ظاہر نظر آنے لگے تو ان سے ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی خوشبو آئی کہ ہماری خوشبو سے بدرجہا بہتر تھی۔اس آدمی کے ساتھ کے لوگ کہنے لگے کہ شاید یہی وہی آدمی ہے جس کو امیر نے سنگسار کیا تھا۔اس لئے ایسی خوشبو آرہی ہے میں نے کہا کہ ہاں یہ ایسا شخص تھا کہ ہر وقت قرآن شریف کی تلاوت اور خدا کو یاد کرتا تھا۔یہ وہی خوشبو ہے۔جب ہم نے زمین سے اُٹھا کر کفن میں رکھا تو مجھے کشف میں معلوم ہوا کہ پہاڑی کے پیچھے پچاس آدمی اور ایک سوار دورہ یعنی گشت پر آرہے ہیں۔اس زمانہ میں رات کے وقت پہرہ ہوتا تھا اور کسی کو باہر پھرنے کی اجازت نہ تھی اگر کوئی رات کو پکڑا جاتا تو بغیر پوچھ پاچھ کے مار دیا جاتا۔تب میں نے ان لوگوں کو کہا ہٹ جاؤ لوگ سرکاری آرہے ہیں۔اور یہ چاندنی رات تھی۔جب ہم ہٹ گئے تو تھوڑی دیر بعد ایک سوار اور بہت سے لوگ اس سڑک پر آئے جس سڑک سے راستہ میگزین کو جاتا ہے۔اس سڑک پر سے میگزین کو گئے اور کچھ دیر بعد اس راستہ سے واپس چلے گئے۔تب ہم شہید مرحوم کی لاش پر آگئے اور لاش کو تابوت میں رکھ دیا۔لاش اس قدر بھاری ہو گئی تھی کہ ہم اُٹھا نہیں سکتے تھے۔تب میں نے لاش کو مخاطب کر کے کہا کہ جناب یہ بھاری ہونے کا وقت نہیں۔ہم تو ابھی مصیبت میں گرفتار ہیں کوئی اور اٹھانے والا نہیں آپ ہلکے ہو جائیں اس کے بعد جب ہم نے ہاتھ لگایا تو لاش اتنی ہلکی ہو گئی تھی کہ میں نے کہا کہ میں اکیلا ہی اُٹھاتا ہوں۔لیکن اس دوست نے کہا کہ نہیں میں اُٹھاؤں گا۔آخر اس نے میری پگڑی لے کر اور تابوت کو اس کے ذریعہ سے اٹھایا نزدیک ہی ایک مقبرہ تھا وہاں لاش رکھ کر میں نے ان کو رخصت کیا کہ وہ سرکاری آدمی تھا۔صبح ہوتے ہوئے میں نے مقبرہ میں ایک زیارت والے آدمی کو کچھ پیسے دیکر ساتھ کرلیا اور تابوت کو شہر کے اندر لائے۔شہر کے شمال کی طرف ایک پہاڑی بالائی سار نام کے دوسری 53