حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 32 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 32

ایسا بولا کہ خوب گونج اُٹھی سارے آفاق میں صدائے شہید دشمن حق امیر نے نہ سُنی آه حکمت بھری ندائے شہید ہے یقیں اب خدا کی نصرت سے خوب لہرائے گا لوائے شہید آئے گی خلق اس کے سایہ میں بال پھیلائے گا ہمائے شہید مار ڈالا خدا کے بندے کو تی و قیوم ہے خدائے شہید رنگ لائے گا اس کا خون ضرور خون برسائے گی حنائے شہید گر گیا چشم حق سے تو کابل جب فلک پر چڑھی دعائے شہید گرچہ آیا نہیں کوئی جاکر جان لے گا امیر رائے شہید ہے وہ زندہ خدائے پاک کے پاس فائدہ کیا کہ روئیں ہائے شہید فائدہ جس سے ہو وہ کام کریں ماتم و غم کو ہم سلام کریں بند هفتم دے کے سب کو پیام چھوڑ گیا مر گیا اپنا نام چھوڑ گیا دولت وصل کے لئے دم نقد نقد و دولت تمام چھوڑ گیا اس سہ مچھی لے سرائے دنیا میں کر کے دو دن قیام چھوڑ گیا اپنے ایمان کی سلامت سے کر کے سب سلام چھوڑ گیا اب نہ دیکھو گے اس کی صورت کو تم میں اپنا کلام چھوڑ گیا بس یہ سمجھو کہ ملک کابل کو کر کے اپنا غلام چھوڑ گیا پی گیا شوق سے مئے صافی درد نوشوں کو جام چھوڑ گیا فلیتے جلانے والا آلہ (فرہنگ آصفیہ) 32