حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 33 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 33

شاخ طوبی پہ جا بسا اودام پیش صیاد خام چھوڑ گیا اپنی اولاد اور مریدوں کو اپنے سمجھا کے کام چھوڑ چھوڑ گیا چال دکھلا کے اپنا شش تمام توسن خوش خرام چھوڑ گیا مقتدائے خواص ملک اپنا ذکر بین العوام چھوڑ گیا صدق دکھلا گیا مسیحا کو مہدی کا سر چلیپا کو پیار سے مہر سے محبت سے عرض ہے احمدی جماعت سے کہ رہیں ایسی استقام کہیں مرنے اور جینے میں لیں سبق آپ کی شہادت سے جو کہیں اس کو کر کے دکھلائیں بات بنتی نہیں طلاقت سے دولت صبر سے خدا مل جائے کیا کمائیں گے مال و دولت سے نوع انساں کے ساتھ پیش آ ذات باری کے جو اوامر ہیں دیکھیں سب کو نگاہ عظمت سے زیب دیں اپنے تن کو ہم سارے نیچے تقویٰ کی زیب و زینت سے پائیں زندگی نئی نئی سے نئی زندہ عیسی کے فیض صحبت سے بس نمازیں پڑھیں زکوتیں دیں جی چرائیں نہ ہم دیانت سے نیچے ابدال بن کے دکھلائیں پوری تبدیل رسم و عادت سے دور سمجھیں نہ اپنے آپ کو ہم دور ہوں کبر اور نخوت ثاقب صدق اور صفا دکھلاؤ عسر اور ٹیسر میں وفا دکھلاؤ ( مطبوعه الحکم ۲۴ راگست ۱۹۰۴ء صفحه ۲۰۱) 33