حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 31
سن لو کابل میں جاکے یہ آواز کہہ رہا ہے جو وہ سر پامال کھیلنا جان پر یہ ہوتا ہے مرنا ایمان پر ہوتا ہے پر بند پنجم گرچہ عبداللطیف خان نہ رہا جسم کابل کے تن کی جان نہ رہا اس کا ایمان تھا جوانی فوج دین کا وہ نوجوان نہ رہا خلد میں اُڑ گیا وہ طائر قدس اس کا دنیا میں آشیان نہ رہا اُٹھ گیا چھوڑ کر وہ زن و فرزند چند دن کا تھا مہمان نہ رہا اس کو مہمانی بہشت ملی جبکہ دنیا میں آب و نان نہ رہا جس کو روح القدس کی تھی تائید وہ مسیحا کا مدح خوان نہ رہا جس نے مانا مسیح بن دیکھے اور نہ چاہا کوئی نشان نہ رہا اس کی ہر بات تھی بنات وقند لب شیریں شکر فشان نہ رہا ایک تھا سرزمین کابل میں موت عیسی کا رازدان نہ رہا چھوڑ کر جسم کا قفس خالی طائر روضه جنان نہ رہا اس کا خون رائیگا نہ جائیگا چشم ظالم کو خون رلائے گا بند کس طرح ہو بیاں ثنائے شہید ہم ہیں سو جان سے فدائے شہید اہل کابل کے دل پر تھی کے دل پر نقش ہیں ہ سنگساری میں وعظہائے شہید 319