حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 29
بند دوم تھا ایک ہم میں دُر یگانہ تھا احمدیت کا اک خزانہ تھا اپنے عیسی کے دم کی برکت سے ہمدم مهدی زمانہ گوبسیرا زمیں پہ تھا اس کا آسماں اس کا آشیانہ تھا اس نے پائی غذائے روحانی قادیاں میں کچھ آب و دانہ تھا آیا دین کی طلب میں وہ دیندار جس نے دنیا سے جلد جانا تھا پایا اس نے مسیح اور مہدی منتظر جس کا اک زمانہ تھا تھا مسیحا کے عشق کا بیمار اس کا عاشقانہ تھا سب مرگیا پہلے اپنے مرنے سے اس کا مسلک جو صوفیانہ تھا اور ادا وہ کر کے گیا اس جو حق دوستانہ تھا پائی اس نے حیاتِ جاویداں موت کا اک فقط بہانہ تھا حُبّ احمد ہوئی جگر سے پار ناوک عشق کا نشانہ تھا تھا وہ ہشیار اس پہ دیوانہ مرگیا طور روئے احمد کا تھا وہ پروانہ بند سوم آہ مقتل میں اس کو لائے ہیں سنگدل سخت ہو کے آئے ہیں عقل پر ان کی پڑگئے پتھر سنگباری پہ ہاتھ اُٹھائے ہیں بڑھ گئی ہے یہ کچھ قساوة قلب شہر کے لوگ سب بلائے ہیں ہاتھ میں ہے ہر ایک کے پتھر رجم پر سب ادھار کھائے ہیں 29