حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 28
مرثیہ از حضرت منشی محمد نواب خان ثاقب گالیر کوٹلوی ) بند اوّل آه فریاد اے خدا فریاد تجھ سوا کون دے ہماری داد بیکسوں کا تو ہی سہارا ہے بے سہاروں کا تکیہ گاہ و ملاد تو کرے اپنے دوست کے لاریب دوست آباد اور عدو برباد تیرا شیدا برغم اہل زمین آسمان سے سے سُنے مبارک باد غم کی آندھی نے جس کو گھیرا ہو دشت غربت میں بادل ناشاد بیدلی اس کی تو ہوا کر دے غنچه دل بھیجے باد مراد تیری الفت کا پائے بند جو ہو قید افکار سے رہے آزاد کوئی تدبیر ہی خلاف نہ ہو جس کی تقدیر پہ ہو تیرا صاد کس طرح بھول جائے تو اس کو جس کے دل میں لگی ہو تیری یاد غم جو اُٹھائے تیرے لئے جس پہ چل جائے فجر بیداد مرنے کو زندگی سمجھے میں مٹنے کو جانے نقشِ مراد تجھ ہے گله درد شکوه الم اپنا رنج و غم اپنا پناهگاه 28 (فیروز اللغات فارسی )