حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 30 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 30

اُف رے وحشت امیر کی دل میں کیا خیالات بد سمائے ہیں ނ قاضی سنگدل کی سختی اس یہ پتھر ابھی چلائے ہیں ایسی حالت میں بن کے استقلال وعظ کیسے انہیں سنائے ہیں رہ گئے نیک دل کلیجہ تھام داد دینے کو سر ہلائے ہیں جن میں مظلوم کی ہے دلسوزی کتنے ظالم نے جی جلائے ہیں کھڑانے کا ذکر کیا اس نے پاؤں ایمان پر جمائے ہیں مومن نرم دل کے ہاتھ اور پاؤں قبر سنگین میں دبائے ہیں خان عبد اللطیف را کشتند آه مرد لطیف را کشتند بند چهارم اس کو حق نے دیا تھا استقلال دولت صبر سے تھا مالا مال کس بلا کے تھے لشکن صدمے نہ ہوا اس کا دل ذرا بھی نڈھال اس نے جانا اگر رہا ایمان جان کا کچھ نہ ہوگا بریکا بال مجو دیدار یار باقی تھا جی میں باقی نہ تھا کچھ اس کے ملال جاہ وجلال کا تھا لالچ بیچ سامنے اس کے تھا خدائے جلال کر دکھایا جو کہا ہو گیا ایک اس کا حال و قال ہاتھ میں ہاتھ تھا فرشتوں کے ان سے ہوتے رہے جواب وسوال آرہی تھی صدا فلک سے آئے گا اس زمین پر بھونچال با دیا اپنا لائے گی تیز ہوکر رہے گی نار جدال پتھروں کا بنا نشانہ وہ نام حق کو بنایا اس نے ڈھال 30%