حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 20 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 20

تماشا کے دیکھنے کے لئے گئی۔جب مقتل پر پہنچے تو شہزادہ مرحوم کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا۔اور پھر اس حالت میں جبکہ وہ کمر تک زمین میں گاڑ دیئے گئے تھے۔امیران کے پاس گیا اور کہا کہ اگر تو قادیانی سے جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے۔انکار کرے تو اب بھی میں تجھے بچالیتا ہوں۔اب تیرا آخری وقت ہے اور یہ آخری موقعہ ہے جو تجھے دیا جاتا ہے اور اپنی جان اور اپنے عیال پر رحم کر۔تب شہید مرحوم نے جواب دیا کہ نعوذ باللہ سچائی سے کیونکر انکار ہوسکتا ہے۔اور جان کیا حقیقت ہے اور عیال و اطفال کیا چیز ہیں۔جن کے لئے میں ایمان کو چھوڑ دوں۔مجھ سے ایسا ہر گز نہیں ہوگا اور میں حق کے لئے مروں گا۔تب قاضیوں اور فقیہوں نے شور مچایا کہ کافر ہے کافر ہے اس کو جلد سنگسار کرو۔اس وقت امیر اور اس کا بھائی نصر اللہ خان اور قاضی اور عبدالاحد کمیدان یہ لوگ سوار تھے اور باقی تمام لوگ پیادہ تھے۔جب ایسی نازک حالت میں شہید مرحوم نے بار بار کہہ دیا کہ میں ایمان کو جان پر مقدم رکھتا ہوں۔تب امیر نے اپنے قاضی کو حکم دیا کہ پہلا پتھر تم چلاؤ۔کہ تم نے کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔قاضی نے کہا کہ آپ بادشاہ وقت ہیں۔آپ چلا دیں۔تب امیر نے جواب دیا کہ شریعت کے تم ہی بادشاہ ہو اور تمہارا ہی فتویٰ ہے اس میں میرا کوئی دخل نہیں۔تب قاضی نے گھوڑے سے اتر کر ایک پتھر چلایا جس پتھر سے شہید مرحوم کو زخم کاری لگا اور گردن جھک گئی پھر بعد کے بد قسمت امیر نے اپنے ہاتھ سے پتھر چلایا۔پھر کیا تھا اس کی پیروی سے ہزاروں پتھر اس شہید پر پڑنے لگے اور کوئی حاضرین میں سے ایسا نہ تھا جس نے اس شہید مرحوم کی طرف پتھر نہ پھینکا ہو۔یہاں تک کہ کثرت پتھروں سے شہید مرحوم کے سر پر ایک کوٹھہ پتھروں کا جمع ہو گیا۔پھر امیر نے واپس ہونے کے وقت کہا کہ یہ شخص کہتا تھا کہ میں چھ روز تک زندہ ہو جاؤں گا۔اس پر چھ روز تک پہرہ رہنا چاہئے۔بیان کیا گیا کہ یہ ظلم یعنی سنگسار کرنا ۱۴ جولائی کو وقوع میں آیا۔اس بیان میں اکثر حصہ ان لوگوں کا ہے جو اس سلسلہ کے مخالف تھے جنہوں نے یہ بھی اقرار کیا کہ ہم نے بھی پتھر مارے تھے۔اور بعض ایسے آدمی بھی اس بیان میں داخل ہیں کہ شہید مرحوم کے پوشیدہ 20