حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 21 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 21

شاگرد تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اس سے زیادہ دردناک ہے۔جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔کیونکہ امیر کے ظلم کو پورے طور پر ظاہر کرنا کسی نے روا نہیں رکھا اور جو کچھ ہم نے لکھا ہے بہت سے خطوط کے مشترک مطلب سے ہم نے خلاصہ لکھا ہے۔ہر ایک قصہ میں اکثر مبالغہ ہوتا ہے۔لیکن یہ قصہ ہے کہ لوگوں نے امیر سے ڈر کر پورا پورا بیان نہیں کیا اور بہت سی پردہ پوشی کرنی چاہی۔شہزادہ عبداللطیف کے لئے جو شہادت مقد رتھی وہ ہو چکی۔اب ظلم کا پاداش باقی ہے انه من يَأتِ ربه مجرما فانّ له جهنم لايموت فيها ولا يحی۔افسوس ہے کہ ید امیر زیر آیت من يقتل مومنا معتمدًا داخل ہو گیا اور ایک ذرہ خدا تعالیٰ کا خوف نہ کیا اور مومن بھی ایسا مومن کہ اگر کابل کی تمام سرزمین میں اس کی نظیر تلاش کی جائے تو تلاش کر نالا حاصل ہے۔ایسے لوگ اکسیر احمر کے حکم میں ہیں۔جو صدق دل سے ایمان اور حق کے لئے جان بھی فدا کرتے ہیں اور زن وفرزند کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے۔اے عبداللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے۔میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔۔۔۔۔صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف مرحوم کا اس بے رحمی سے مارا جانا اگر چہ ایسا امر ہے کہ اس کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے (وما رأينا ظلما اغيظ من هذا) لیکن اس خون میں بہت برکات ہیں کہ بعد میں ظاہر ہوں گے۔اور کابل کی زمین دیکھ لے گی کہ یہ خون کیسے کیسے پھل لائے گا۔یہ خون کبھی ضائع نہیں جائے گا۔پہلے اس سے غریب عبد الرحمن میری جماعت کا ظلم سے مارا گیا اور خدا چپ رہا۔مگر اس خون پر اب وہ چپ نہیں رہے گا اور بڑے بڑے نتائج ظاہر ہوں گے۔چنانچہ سنا گیا ہے کہ جب شہید مرحوم کو ہزاروں پتھروں سے قتل کیا گیا تو انہیں دنوں میں سخت ہیضہ کا بل میں پھوٹ پڑا اور بڑے بڑے ریاست کے نامی اس کا شکار ہو گئے۔اور بعض امیر کے رشتہ دار اور عزیز بھی اس جہان سے رخصت ہوئے۔مگر ابھی کیا ہے 21