حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 96
آئیے یہاں بیٹھئے اور خود پیچھے کھسک جاتے اور اسے چادر پر بٹھا لیتے ” یہاں تک کہ تھوڑی دیر نہ گزری تھی جو دیکھتا ہوں کہ حضرت صاحب تو مٹی پر بیٹھے ہیں اور مرید سارے چادر پر بیٹھے ہیں۔آنے والوں کو تو زیارت اور ملاقات کے شوق و ذوق میں یہ نظر نہ آیا مگر میں دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں کڑھ رہا تھا اور ساتھ ہی ایمان ترقی کر رہا تھا کہ خدا نے کیا مرتبہ دیا ہے اور نفس میں کس قدر انکسار اور فروتنی ہے۔“ مجدد اعظم حصہ دوم صفحہ ۱۲۹۳-۱۲۹۴ء مصنفہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب ناشر احمد یہ انجمن اشاعت لاہور دسمبر ۱۹۴۰ء) اس سے بھی حیرت انگیز واقعہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کا ہے جو انہی کے الفاظ میں درج ذیل کیا جاتا ہے۔فرماتے ہیں: ایک دفعہ گرمی کا موسم تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل خانہ لدھیانہ گئے ہوئے تھے۔میں حضور کو ملنے اندرون خانہ گیا۔کمرہ نیا نیا بنا تھا اور ٹھنڈہ تھا۔میں ایک چارپائی پر ذرا لیٹ گیا اور مجھے نیند آ گئی۔حضور اس وقت کچھ تصنیف فرماتے ہوئے ٹہل رہے تھے۔جب میں چونک کر جا گا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میری چار پائی کے نیچے زمین پر لیٹے ہوئے تھے۔میں گھبرا کر ادب سے کھڑا ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی محبت سے پوچھا۔مولوی صاحب! آپ کیوں اُٹھ بیٹھے؟ میں نے عرض کیا حضور نیچے لیٹے ہوئے ہیں۔میں اوپر کیسے سوسکتا ہوں؟ مسکرا کر فرمایا۔آپ بے تکے پ بے تکلفی سے لیٹے رہیں میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔بچے شور کرتے تھے میں ان کو روکتا تھا تا کہ آپ کی نیند میں کوئی خلل نہ آئے۔اللہ اللہ ! شفقت کا کیا عالم تھا۔“ ) سیرت حضرت مسیح موعود مؤلفہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ) 96