حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 95
صاحب کو ننگا سینہ بُرا معلوم ہوتا تھا۔ایک رومال سینے پر لٹکا لیا جب امرتسر پہنچے۔کشمیری محلہ میں ایک حنفی مذہب کا مولوی تھا اس کے پاس اتر پڑے۔اس مولوی کے پاس کتابوں کی لائبریری تھی۔۔۔۔رات دن کتابوں کے مطالعہ میں مشغول رہتے۔شام سے صبح تک کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے اسی گمنامی کی حالت میں رہے کہ نہ تو آپ کا کوئی واقف بنا اور نہ آپ کسی کے واقف ہوئے۔صرف کبھی کبھی ملنگ فقیروں کے پاس جایا کرتے تھے۔اس ڈیرہ کے لوگوں کو بہت خوش کیا کرتے تھے کیونکہ صاحبزادہ صاحب دولتمند آدمی تھے۔آپ کو پیچھے سے خرچ آیا کرتا تھا۔اس لئے آپ لوگوں کو بہت کچھ دیا کرتے تھے۔اور آپ نے جامعہ ملنگی زیب تن رکھا۔۔۔۔حضرت صاحبزادہ صاحب قریبا تین سال کے بعد واپس خوست اسی لباس مولویانہ میں تشریف لے گئے۔“ (رسالہ مذکورہ صفحہ ۵ تا ۷ ) ضمنا یہ بتانا بھی خالی از دلچسپی نہ ہوگا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی مقدس سوانخ فروتنی، منکسر المزاجی اور انکسار کے واقعات سے لبریز ہے۔دعوئی سے قبل جب آپ مقدمات کے سلسلہ میں بٹالہ یا گورداسپور تشریف لے جاتے تو اکثر خود پیدل چلتے اور اپنے خادموں کو گھوڑے پر سوار کرا دیتے۔(الحکم ۲۱-۲۸ مئی ۱۹۳۴ء صفحہ ۳۰) حضرت اقدس عمر بھر انہیں عاجزانہ راہوں پر گامزن رہے۔بعض اوقات آپ کی مجلس میں سادگی کی وجہ سے نو وار دلوگ آپ کو پہچاننے سے قاصر رہتے تھے۔(اخلاق احمد صفحہ ۲۹) ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کی عینی شہادت ہے کہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی پہلی بیگم صاحبہ کا انتقال ہوا تو حضرت اقدس جنازے کے ساتھ قبرستان تشریف لے گئے قبر ابھی تیار نہ تھی۔میں نے جلدی سے ایک درخت کے نیچے سفید چادر بچھائی حضور اس چادر پر بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر بعد لوگ وہیں آنا شروع ہو گئے جو شخص آتا حضرت اقدس اسے فرماتے 95%