حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 97 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 97

خلاصہ کلام المختصر یہ کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی ۱۸۹۳ء کی یادگار تصویر کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کا کوئی جواز نہیں۔تاریخ اور سیرت کے علوم کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔اور دونوں کا سر چشمہ عقلیات یاذ وقیات نہیں بلکہ مستند معلومات اور ٹھوس حقائق ہیں۔تحقیق کے نئے گوشے اور مفکرین احمدیت سے درخواست بالآخر میں دنیا بھر کے احمدی مفکروں، دانشوروں اور ریسرچ سکالرز سے عرض کروں گا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی تصویر کے سلسلہ میں مزید تحقیق کے متعدد نئے گوشے اور زاویئے بھی ہیں۔اور اس علمی اور تحقیقی میدان میں ابھی بہت سا کام باقی ہے جس کی جلد تکمیل کے لئے مجھے ان کے مخلصانہ اور پُر جوش تعاون کی بے حد ضرورت ہے۔مثلاً۔اگر چہ انڈیا آفس سے ۱۸۹۳ء کے گروپ فوٹو میں موجود افراد کی فہرست دستیاب نہیں ہوسکی۔مگر ممکن ہے کہ جرمنی ، فرانس، ماسکو، شکاگو، واشنگٹن اور نیو یارک کی لائبریریوں سے کامیابی ہو سکے۔امیر عبدالرحمن خان نے دبدبہ امیری صفحہ ۱۳۰ میں ڈیورنڈ لائن کے برطانوی وفد کے حسب ذیل ممبر بتائے: سر مارٹمر ڈیورانڈ۔کرنل ایلیس ( کوارٹر ماسٹر جنرل آفس ) کپتان میک مہان۔کپتان میزس اسمۃ۔مسٹر کلارک ملازم فارن آفس و منصرم پولٹیکل اسٹنٹ۔میجرفن وائسرائے ہند کے ڈاکٹر اور مسٹر ڈونلڈ۔اگران ممبران کے ورثاء سے رابطہ کن ہو تو امید ہے کہ یہ گروپ فوٹومع اسماء کے مہیاء ہوجائیں۔البدر ۲۳ تا ۳۰/جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰ سے ثابت ہے کہ سفر جہلم ۱۹۰۳ء کے 97