حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 48
عصر کا وقت قریب آیا۔کہ یکے بعد دیگرے پچاس سواروں میں سے لوگ آنے لگے۔جب نماز کا وقت آیا۔تو شہید مرحوم نے آگے ہو کر نماز پڑھانی شروع کی۔نماز کے بعد ان سواروں نے عرض کیا کہ آپ سے گورنر صاحب عرض کرتے ہیں کہ مجھے آپ سے ملاقات کرنی ہے۔آپ خود آئیں گے یا میں حاضر ہو جاؤں۔آپ نے فرمایا نہیں وہ ہمارے سردار ہیں میں خود چلتا ہوں۔آپ نے گھوڑے کو زمین کرنے کا حکم دیا۔لیکن سواروں میں سے ایک سوار اترا اور آپ کو سواری کے لئے گھوڑا خالی کیا۔جب آپ گھوڑے پر سوار ہونے لگے تو خط آپ نے جیب سے نکال کر میرے حوالہ کیا۔اور کچھ نہ فرمایا۔میں آپ کے ساتھ ہولیا۔جب گاؤں سے نکلا تب آپ نے فرمایا کہ پہلے پہل جب آپ مجھے ملے تھے تو میں بہت خوش ہوا تھا۔اور خیال کیا کہ ایک باز میرے ہاتھ میں آیا ہے۔اس بارے میں میرے ساتھ لمبی گفتگو کی۔جب بہت دُور تک میں ساتھ ساتھ گیا۔تو آپ نے فرمایا کہ جاؤ اب گھر چلے جاؤ۔میں نے عرض کیا کہ میں آپ کی خدمت کے لئے چلتا ہوں۔فرمانے لگے کہ تم میرے ساتھ مت جاؤ۔تمہارا میرے ساتھ جانا منع ہے اور فرمایا۔وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (آل عمران : ۱۹۶)۔تم اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔اور فرمایا کہ اس گاؤں سے اپنے گھر چلے جاؤ۔میں رخصت ہو گیا اور آپ سواروں کے ساتھ خوست کی چھاؤنی میں چلے گئے۔اور گورنر نے حکم سنایا کہ یہ حکم آپ کے متعلق آیا ہے کہ نہ کوئی آپ کو ملے اور نہ آپ کسی سے ملیں اور نہ کلام کریں اس لئے آپ کو علیحدہ کوٹھی دی جاتی ہے۔لہذا انہیں علیحدہ کوٹھی رہنے کے لئے مل گئی۔اور پہرہ ان پر قائم ہو گیا۔لیکن گورنر نے یہ رعایت ان کے لئے رکھی کہ ان کے عزیز رشتہ دار وغیرہ ان کے ملنے کے لئے آجاتے اور مل لیتے تھے۔جب ان کے مرید ملنے کے لئے آئے۔تو اس وقت بھی 48