حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 47 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 47

کوئی جواب نہ ملا۔مگر محمد حسین خان صاحب نے یہ کہا ہے کہ تم جاؤ جواب ڈاک میں آجائے گا۔مولوی صاحب نے یہ بھی کہا کہ مجھے تو خطرہ معلوم ہوتا ہے۔اس خطرہ کے ہوتے ہوئے بھی صاحبزادہ صاحب نے کوئی پرواہ نہ کی۔جواب کے آنے میں تین ہفتے گزر گئے۔ایک روز میں اور صاحبزادہ صاحب اور ان کے خادم عبدالجلیل صاحب سیر کو جارہے تھے کہ صاحبزادہ صاحب اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ تم ہتھکڑیوں کی طاقت رکھتے ہو۔اور مجھے مخاطب ہو کر فرمایا کہ جب میں مارا جاؤں گا تو میرے مرنے کی اطلاع مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کر دینا۔یہ سن کر میرے آنسونکل آئے اور میں نے عرض کیا کہ جناب میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں۔میں کب جدا ہوں گا۔آپ نے فرمایا کہ نہیں نہیں۔جب تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا تھا۔کہ میں قادیان سے باہر نہیں جا سکتا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ان کے ساتھ جاؤ اور تم واپس آجاؤ گے اس لئے تمہارے بارہ میں تو مسیح موعود علیہ السلام کا اشارہ ہے کہ واپس آ جاؤ گے۔میرے بارے میں تو نہیں فرمایا۔اسی اثناء میں کہ جواب نہیں آیا تھا۔بہت سے دوستوں نے عرض کیا کہ اگر آپ نے جانا ہے تو ہم آپ کو لے جائیں گے۔تمام عیال کے ساتھ بنوں چلے جائیں۔اس وقت موقع ہے۔آپ نے فرمایا کہ نہیں۔میں ہر گز نہیں جاؤں گا۔۔۔میں مارا بھی گیا تو میرے مرنے پر بھی تم کو بہت مدد ملے گی اور فائدہ پہنچ جائے گا۔اس لئے میں بالکل نہیں جاؤں گا۔اس روز جس روز کہ پچاس سواروں نے آنا تھا۔آنے سے پیشتر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام ایک خط لکھا جس میں تمام واقعات جو خطوں کے بارے میں ہوئے تھے لکھے۔اور جو اس خط میں القاب تھے۔مجھے پسند آئے۔میں نے عرض کیا کہ یہ خط مجھے دیدیں نقل کر کے میں واپس دیدوں گا۔آپ نے وہ خط جیب میں ڈال لیا اور فرمایا کہ یہ خط تمہارے ہاتھ میں آوے گا۔47