حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 49
انہوں نے عرض کیا کہ ہم آپ کو اور آپ کے اہل وعیال کو نکال کر لے جائیں گے یہ لوگ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ہم تعداد میں زیادہ ہیں لیکن حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم نے اس موقع پر بھی یہی فرمایا کہ اب مجھے امید ہے کہ خدا تعالیٰ مجھ سے دین کی خدمت ضرور لے گا تم یہاں کوئی منصوبہ نہ باندھنا تا اس کوٹھی میں بھی ہم سے زیادتی نہ ہو۔خوست میں آپ کو اس لئے رکھا گیا تھا کہ گورنر کو خوف تھا اور خیال کرتا تھا کہ اگر سر دست ان کو کابل لے گئے۔تو ایسا نہ ہو کہ راستہ میں ان کے مرید ہم پر حملہ کر دیں اور ہم سے چھڑالے جائیں اس لئے دو تین ہفتہ کے بعد جب گورنر کو معلوم ہو گیا کہ یہ خود ہی لوگوں کو اس مقابلہ سے منع کرتے ہیں تو تھوڑے سے سوار ساتھ کر کے صاحبزادہ صاحب کو کا بل بھیج دیا۔ان سواروں سے روایت ہے جو ان کے ساتھ تھے۔خدا جانے کہاں تک صحیح ہے۔کہ جب ہم کابل جارہے تھے تو دو بار صاحبزادہ صاحب بیٹھے بیٹھے ہم سے گم ہو گئے۔پھر جب دیکھا تو ویسے ہی بیٹھے ہوئے تھے۔پھر انہوں نے فرمایا۔کہ تم لوگوں کو معلوم ہے کہ تم مجھے زبردستی نہیں لے جاسکتے۔بلکہ میں ہی جاتا ہوں۔تب انہوں نے کہا کہ ہم بہت احتیاط اور ادب کے ساتھ کابل لے گئے۔جب ہم کابل پہنچ گئے تو پھر حبیب اللہ خان کے بھائی امیر نصر اللہ خان کے سامنے پیشی تھی۔اس نے بغیر کسی قیل وقال کے حکم دیا کہ اس کا تمام مال و اسباب چھین لو۔پس تمام اسباب اور زادراہ اور گھوڑا چھین لیا گیا۔پھر حکم ہوا کہ مارگ کے قید خانہ میں لے جاؤ۔جہاں بڑے لوگ قید کئے جاتے ہیں۔وہاں آپ کو بہت تکلیف پہنچائی۔لیکن آپ کو دیکھا جاوے تو اس وقت اور اس حالت میں بھی اپنے خدا کو یاد کرتے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہے۔ایک بار آپ نے کسی ذریعہ سے خبر بھیجی کہ مجھے خرچ بھیج دواس وقت ان ہی کے گاؤں میں میں تھا۔آپ کے بال بچوں نے کہا کہ ابا نے خرچ مانگا ہے۔کوئی لے جانے والا نہیں۔49