حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ

by Other Authors

Page 11 of 13

حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ — Page 11

19 18 دستیاب ہو گیا یعنی قریباً تین لاکھ کا مال ان کو مل گیا۔جس سے سیٹھ صاحب نے تمام قرض بھی اُتار دیا اور ان کا حال بھی آسودہ ہو گیا۔اس طرح حضرت مسیح موعود کی تجویز پر عمل کرنے اور دعا سے سیٹھ صاحب کی بگڑی بن گئی۔“ ( تین سو تیرہ ( رفقاء ) حضرت مسیح موعود 68ص69) جماعت کے لئے نمونہ حضرت سیٹھ صاحب کی خوش بختی یہ بھی ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کا ذکر نہ صرف مکتوبات میں بلکہ اپنی کتب حقیقۃ الوحی ، سراج چنانچہ ایک دفعہ حضرت اقدس مسیح موعود کو الہام فرمایا کہ إِنِّي مُرْسِلٌ إِلَيْكُمْ هَدِيَّةٌ “ یعنی یقیناً میں تمہاری طرف تحفہ بھجوانے والا ہوں۔اس الہام کے بعد حضرت مسیح موعود کو حضرت سیٹھ صاحب کی طرف سے بھجوائی گئی رقم ملی اور حضرت صاحب نے اس رقم کا ملنا اس الہام کی صداقت کے طور پر بیان فرمایا۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم حصہ اول ص 3 مکتوب 6 مارچ 1895 ء ) | اسی طرح ایک مرتبہ حضرت سیٹھ صاحب کو کاربنکل کا پھوڑا نکلا جو نہایت منیر، کتاب البریہ ضمیمہ انجام آتھم ، تحفہ گولڑویہ اور اشتہار الانصار 14اکتوبر 1899ء خطر ناک تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے ان کے لئے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے میں بھی فرمایا ہے۔فرمایا۔اس اشتہار میں آپ نے احباب جماعت کیلئے آپ کو نمونہ قرار دیتے ہوئے ان کا صدق اور ان کی مسلسل خدمات جو محبت، اعتقاد اور یقین سے بھری ہوئی ہیں تمام جماعت کے ذی مقدرت لوگوں کے لئے ایک نمونہ ہیں۔“ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت حضرت سیٹھ صاحب کا اپنے اللہ اور اس کے مسیح کے ساتھ جو محبت اور فدائیت کا تعلق تھا اس کی وجہ سے ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر بعض الہامات آپ کے بارہ میں نازل فرمائے۔آپ کو شفاء عطا فرما دی اور حضرت سیٹھ صاحب نے اس اطلاع پر مشتمل خط کہ مجھے ہو گئی ہے حضرت مسیح موعود کو بھجوا دیا مگر اس خط کے پہنچنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے مسیح کو اس کی خبر دے دی اور الہام فرمایا ” آثار زندگی یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت سیٹھ صاحب کو اس خطر ناک مرض سے شفا دے دی۔اسی طرح ایک موقع پر آپ کے بارہ میں مشہور شعر الہاما اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا۔قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے اس سے ظاہر ہے کہ جب بھی کوئی اللہ کا بندہ اپنے خدا سے محبت کرتا ہے اور اس کے حکم کو بجا لاتے ہوئے اپنے زمانہ کے امام کو قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی