حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ — Page 10
17 16 کے ایام طویل ہوئے اور اس وجہ سے حضرت اقدس علیہ السلام کی ڈھیروں ڈھیر دعائیں لینے کا موقع ملا۔اور حضرت اقدس کے بہت ہی محبت بھرے خطوط آپ کی دلی تسکین کا موجب بنتے رہے۔حضرت اقدس نے ان ایام میں آپ کو قرآن مجید کی صبر کی تعلیم کی طرف بار بار توجہ دلائی اور دعائیں کرنے کا ارشاد فرمایا۔ایک موقع پر حضرت اقدس علیہ السلام نے آپ کو یہ دعا سکھلائی کہ رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِى وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي یعنی اے میرے رب ہر ایک چیز تیری ہی خادم ہے اور تیرے حکم میں ہے مجھے ہر ایک بلا سے محفوظ رکھ۔اور میری مدد کر اور مجھ پر رحم فرما۔اور اس دعا کے بارہ میں فرمایا۔یہ خدا کا اسم اعظم ہے جو شخص صدق دل سے اس کو پڑھے گا وہ نجات پائیگا۔دو مکتوبات احمد یہ جلد نمبر 5 حصہ اول ص 38 مکتوب نمبر (90) پیارے بچو! ہمیں بھی اس دعا کو یاد کرنا چاہئے اور ہمیشہ یہ دعا کرتے رہنا چاہئے۔یہ دعا حضرت اقدس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشکلات اور مصائب سے نجات پانے کے لئے سکھلائی گئی تھی اور حضرت اقدس علیہ السلام نے حضرت سیٹھ صاحب کو بھی یہ دعا سکھلائی۔اور اب ہمارے موجودہ امام حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی ہم کو یہی دعا پڑھنے کا ارشادفرمایا ہے۔ابتلاء کے انہیں ایام کا ایک ایمان افروز واقعہ حضرت عزیز الدین صاحب اس طرح بیان کرتے ہیں۔ایک وقت میں قادیان میں تھا کہ سیٹھ عبدالرحمان صاحب مدراس والے وہاں آئے ہوئے تھے جن کا اسباب کالدا ہوا جہاز گم ہو گیا تھا اور وہ ابتلاء میں تھے۔حضرت صاحب سے مشورہ لیتے تھے کہ جہاز گم ہو گیا ہے اور روپے کی زیر باری ہوگئی ہے۔قرض خواہ قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں تو پھر کیا دیوالیہ نکال دیا جائے یا اور جو تجویز آپ فرماویں عمل میں لائی جائے اور دعا بھی کریں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ جو کچھ بھی آپ کے پاس ہے یعنی ظاہری جائیداد اور باریک در بار یک چیزیں قیمتی بھی جو تمہارے پاس ظاہر اور پنہاں ہیں قرض خواہوں کے آگے پیش کر دیں اور ہم انشاء اللہ دعا بھی کریں گے۔چنانچہ سیٹھ صاحب نے ایسا ہی کیا یعنی وہ چیزیں جو نہاں در نہاں پردہ میں ان کے پاس تھیں انہوں نے سب قرض خواہوں کو بلا کر پیش کر دیں۔جب قرض خواہوں نے ظاہر جائیداد کے علاوہ اور قیمتی چیزیں بھی دیکھیں جوان کے خواب وخیال میں نہیں آسکتی تھیں کہ ان کے پاس ہوں گی تو تمام قرض خواہ سیٹھ صاحب کی ایمانداری پر قربان ہوگئے اور انہوں نے ان کی تمام جائیداد، زیورات اور قیمتی چیزیں سب کی سب واپس کر دیں اور کہا کہ ہمارا دل مطمئن ہو گیا ہے تم اس روپے سے یا اور ضرورت ہو تو ہم سے لے کر اپنا کاروبار جاری رکھو اور جب تمہارے پاس روپیہ ہو جائے تو ہمارا قرض ادا کر دیں۔خدا کی قدرت کہ تین سال بعد گم شدہ جہاز کہیں پکڑا گیا اور آخر وہی جہاز مع تمام اسباب کے ان کو