حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی ؓ — Page 8
13 12 کر کے میں رود یا کرتا تھا کہ اے رب ان برائیوں سے نجات کس طرح ہوگی۔اور مجھے یہ امر ناممکن معلوم ہوتا تھا اور فی الحقیقت اگر میں ہزار کوشش کر کے بھی جان چھوڑتا تو پھر یہ امر ناممکن معلوم ہوتا تھا کہ میری صحت وغیرہ میں کچھ فتور پیدا نہ ہوتا مگر حلفاً لکھتا ہوں کہ بعد بیعت وہ سب باتیں یکے بعد دیگرے ایسی دور ہوگئیں جیسا لاحول سے شیطان بھاگتا ہے اور مجھے تکلیف بھی محسوس نہیں ہوئی اور صحت کا یہ حال ہو گیا کہ گویا ان ارتکابوں کے وقت میں بیمار تھا اور ان کے ترک کے بعد تندرست ہو گیا اور یہ صرف حضرت حجۃ اللہ امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام کے انفاس طیبات کی طفیل نصیب ہوا۔اور اب اپنے اندر وہ باتیں دیکھتا ہوں کہ بے اختیار ہو کر رب کریم ورحیم کا شکر کرتا ہوں۔“ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم حصہ اول بار اول زیر عنوان آپ بیتی ص 51) تیرا یہ سب کرم ہے تو رحمت اتم ہے کیونکر ہو حمد تیری کب طاقت قلم ہے کرنی چاہئے اور حضرت خلیفہ اسیج کو بار بار دعا کے لئے محل لکھنے چاہئیں۔اللہ تعالی ہم میں سے ہر ایک کو اس کی توفیق دے۔آمین حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے فدائیت پیارے بچو! حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب نے جب آپ سے ملاقات کر لی، آپ کو دیکھ لیا اور پہچان لیا تو ان پر دل و جان سے قربان ہو گئے۔اس بیعت کے ساتھ آپ کی زندگی کا گویا سنہرا دور شروع ہو گیا۔اور ایسا کیوں نہ ہوتا؟ آپ نے اس وجود کو پالیا تھا کہ جس کے بارہ میں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب وہ آ جائے تو اس کی بیعت کرنا اور اس کو میر اسلام دینا اور اگر تمہارے راستہ میں برف کے تو دے بھی ہوں تو پھر بھی اس کے پاس جانا اور بیعت کرنا۔آپ نے اپنے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے حکم کو مانتے ہوئے اس مسیح و مہدی کو قبول کیا اور دل و جان سے آپ پر فدا ہو گئے۔آپ کی تو دیکھا بچو! کہ امام کی بیعت کی یہ برکت ہوتی ہے کہ اللہ کے فضل وکرم سیرت کا یہ پہلو بہت نمایاں اور ہمارے لئے قابل تقلید ہے کہ آپ حضرت صاحب سے انسان اپنی کمزوریاں اور گناہوں کے چھوڑنے پر قادر ہو جاتا ہے، شیطان کے چنگل سے آزاد ہو جاتا ہے، خراب عادات سے چھٹکارا پا جاتا ہے اور پاک انسان کے ایک اشارے پر ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے اور خود مشکل میں پڑکر بھی مالی قربانی سے قدم پیچھے نہ ہٹتے تھے۔شدید ابتلاؤں کے باوجود آپ کی محبت اور عشق میں کوئی فرق نہ آیا اور آخر دم تک اسی اخلاص و وفا اور محبت پر قائم ہمیں بھی غور کرنا چاہئے کہ ہم نے بیعت کی ان برکات کو حاصل کیا کہ رہے۔آپ کی انہیں قربانیوں اور محبت اور اخلاص کا ثمرہ تھا کہ حضرت اقدس مسیح نہیں ؟ اگر نہیں تو پھر ہمیں بیعت کی اغراض کو پورا کرنے کی کوشش اور دعا اور محنت موعود آپ کے لئے ہمیشہ دعا کرتے اور آپ کو ہمیشہ خطوط کے جواب میں خطوط بن جاتا ہے۔